کیا بتاؤں میں کیا حسین سے ہے سید الانبیا حسین سے ہے جس نے بخشی ہے زندگی حق کو ہاں وہی کربلا حسین سے ہے جس سے ملتی ہے موت کو بھی حیات ہاں وہ خاک شفا حسین سے ہے عشق کی ابتدا تھی آدم ...
سلام سفرِ عشق کلام عسکری عارف عصمت کے آسماں کے ستارے سفر میں ہیں ایماں کی رہگزر پہ اجالے سفر میں ہیں اے آفتاب اپنی تمازت کو ضبط کر بنت نبی کی گود کے پالے سفر میں ہیں قرآن بھی ن...
غزل کیوں یہ کہتے ہو کہ ایسا نہیں ہونے والا آدمی چاہے تو پھر کیا نہیں ہونے والا خواہشیں ہوتی ہیں انسان کی فطرت میں نہاں کوئی انسان فرشتہ نہیں ہونے والا منصب و تخت و زر و لعل و گ...
خود سے بیزار ہو گیا ہوں میں کتنا دشوار ہو گیا ہوں میں چبھ رہا ہوں سبھی کی آنکھوں میں کیا کوئی خار ہو گیا ہوں میں اب کسی کو بھی میں قبول نہیں ایسا انکار ہو گیا ہوں میں عشق کرنا ہے ...
حضرت جون ایلیا کی نذر سوچتا ہوں میں اطمنان میں کیا خود غرض سب ہیں اِس جہان میں کیا تیرے ہونٹوں کا زہر پینے سے جان آئے گی میری جان میں کیا ایک شیشی بھی زہر ک...
باسمہ تعالیٰ شب ولادتِ مولائے کائنات امیرالمومنین علی ابنِ ابی طالب علیہ اسلام تمام محبانِ علی کو تہِ دل سے مبارک ہو وہ زمانے میں مقدّر کا سکندر ہو گیا جو مرے مولا کی چوکھ...
تازہ غزل درد ہونٹوں کے تبسم سے عیاں تک نہ ہوا جل گیا خانہء احساس دھواں تک نہ ہوا سازشیں رچتے رہے قتل کی میرے مرے دوست ہائے افسوس مجھے اُن پہ گماں تک نہ ہوا کر گیا مجھکو یوں گمن...
خامشی ہونٹوں پہ آنکھوں میں سمندر رکھنا کتنا دشوار ہے جزبات دباکر رکھنا منہ کے بل گرتے ہیں وہ لوگ یقیناً اک دن جو نہیں جانتے پیروں کو زمیں پر رکھنا لاکھ ہو جائے مخالف یہ زمان...
جی جی کے مری جاں مجھے مرنا ہے ابھی اور تنہا یہ سفر زیست کا کرنا ہے ابھی اور جذبات کی گیرائی میں ڈوبا ہی کہاں ہوں احساس کے دریا میں اترنا ہے ابھی اور بادل کو ابھی چیریں گی سورج ک...
باسمہ تعالٰی وفا و عزم و تحمل کا باب ہے زینب حسینیت کی مکمل کتاب ہے زینب چلی ہے اوڑھ کے تطہیر کی ردا سر پہ دیارِ ظلم میں کب بے حجاب ہے زینب جلا کے رکھ دے جو ہر دور کی شہی کا غرور و...