Posts

قصیدہ

کیا بتاؤں میں کیا حسین سے ہے سید الانبیا حسین سے ہے جس نے بخشی ہے زندگی حق کو ہاں وہی کربلا حسین سے ہے جس سے ملتی ہے موت کو بھی حیات ہاں وہ خاک شفا حسین سے ہے عشق کی ابتدا تھی آدم ...

سلام

سلام سفرِ عشق کلام عسکری عارف عصمت کے آسماں کے ستارے سفر میں ہیں ایماں کی رہگزر پہ اجالے سفر میں ہیں اے آفتاب اپنی تمازت کو ضبط کر بنت نبی کی گود کے پالے سفر میں ہیں قرآن بھی ن...

غزل

غزل کیوں یہ کہتے ہو کہ ایسا نہیں ہونے والا آدمی چاہے تو پھر کیا نہیں ہونے والا خواہشیں ہوتی ہیں انسان کی فطرت میں نہاں کوئی انسان فرشتہ نہیں ہونے والا منصب و تخت و زر و لعل و گ...

غزل

خود سے بیزار ہو گیا ہوں میں کتنا دشوار ہو گیا ہوں میں چبھ رہا ہوں سبھی کی آنکھوں میں کیا کوئی خار ہو گیا ہوں میں اب کسی کو بھی میں قبول نہیں ایسا انکار ہو گیا ہوں میں عشق کرنا ہے ...

غزل

حضرت جون ایلیا کی نذر سوچتا   ہوں   میں   اطمنان   میں   کیا خود غرض  سب ہیں اِس جہان میں کیا تیرے  ہونٹوں  کا زہر   پینے سے جان آئے گی میری جان میں کیا ایک  شیشی  بھی   زہر  ک...

منقبت مولا علی

باسمہ تعالیٰ شب ولادتِ مولائے کائنات امیرالمومنین علی ابنِ ابی طالب علیہ اسلام تمام محبانِ علی کو تہِ دل سے مبارک ہو وہ زمانے میں مقدّر کا سکندر ہو گیا جو مرے مولا کی چوکھ...

غزل

تازہ غزل درد ہونٹوں کے تبسم سے عیاں تک نہ ہوا جل گیا خانہء احساس دھواں تک نہ ہوا سازشیں رچتے رہے قتل کی میرے مرے دوست ہائے افسوس مجھے اُن پہ گماں تک نہ ہوا کر گیا مجھکو یوں گمن...

غزل

خامشی ہونٹوں پہ آنکھوں میں سمندر رکھنا کتنا دشوار ہے جزبات دباکر رکھنا منہ کے بل گرتے ہیں وہ لوگ یقیناً اک دن جو نہیں جانتے پیروں کو زمیں پر رکھنا لاکھ ہو جائے مخالف یہ زمان...

غزل

جی جی کے مری جاں مجھے مرنا ہے ابھی اور تنہا یہ سفر زیست کا کرنا ہے ابھی اور جذبات کی گیرائی میں ڈوبا ہی کہاں ہوں احساس کے دریا میں اترنا ہے ابھی اور بادل کو ابھی چیریں گی سورج ک...

منقبت

باسمہ تعالٰی وفا و عزم و تحمل کا باب ہے زینب حسینیت کی مکمل کتاب ہے زینب چلی ہے اوڑھ کے تطہیر کی ردا سر پہ دیارِ ظلم میں کب بے حجاب ہے زینب جلا کے رکھ دے جو ہر دور کی شہی کا غرور و...