نوحہ تیر ستم کی زد پہ ہے بچہ ربابؐ کا
تیرِ ستم کی زد پہ ہے بچہ ربابؐ کا آنے لگا ہے منہ کو کلیجہ ربابؐ کا گردن کو چھیدتا ہوا سرورؑ کو جا لگا ہاتھوں پہ شہؑ کے مر گیا بچہ ربابؐ کا ہوتے ہیں نحر ایسے بھی بچے مرے خدا اصغرؑ کے قتل پر تھا یہ جملہ ربابؐ کا یہ کہ کے رن میں بھیج دیا اپنی جان کو یا رب قبول کیجیو صدقہ ربابؐ کا وہ چلچلاتی دھوپ، دہکتا وہ ریگزار مُرجھا گیا عطش سے دلارا ربابؐ کا مچھلی کی طرح تڑپا کیا تین روز تک دشتِ بلا میں ہنسلیوں والا ربابؐ کا وارث بھی قتل ہو گیا بچے بھی مر گیے کچھ بھی بچا نہ بعدِ سکینہؐ ربابؐ کا گہوارہ پسر کی جلی لکڑیوں کی خاک باقی یہی تھا ایک اثاثہ ربابؐ کا گودی بھی اُجڑی مانگ بھی عارفؔ اُجڑ گئی اہلحرم میں دُکھ تھا یہ تنہا ربابؐ کا عسکری عارفؔ