Posts

کربلا سے شام تک کیسا ستم ڈھایا گیا نوحہ

 کربلا سے شام تک کیسا ستم ڈھایا گیا نوجوانی میں ہی عابد پر بڑھاپا آ گیا ٹکرے ٹکرے ہو گیا قاسمؑ سا بھائی دشت میں اپنے سینے پر سناں اکبرؑ نے کھائی دشت میں  ہو گئی عونؑ و محمدؑ سے جدائی دشت میں  تیرِ سہ شعبہ سے اصغرؑ کا گلا چھیدا گیا کند خنجر سے گلا جب باپ کا کاٹا گیا خون برسا آسماں سے ہل گئی کرب و بلا غش میں تھے سجاد گونجی جب منادی کی صدا ہو گیا قتلِ حسین ابنِ علی بے کربلا جل گیے خیمے، لٹے اسباب، ہائے غربتا لوٹ لیں اہلِ ستم نے ماؤں بہنوں کی ردا قید ہوکے شام کی جانب چلی آلِ عبا طوق اور زنجیر‌ میں جکڑے گیے زین العباؑ چار سالہ سن تھا جسکا وہ بہن روتی رہی اپنے گالوں پر طمانچے شمر کے کھاتی رہی ہر طمانچے پر صدا عباسؑ کو دیتی رہی اے‌ مرے بھائی بچا لو کہتی تھی وہ بارہا ہائے اُس دکھیا بہن کو اونٹ سے باندھا گیا ہائے اُس بچی کا رسی سے گلا جکڑا گیا شام کے اندھیر زنداں میں اُسے رکھا گیا اپنی قسمت پر فقط سجادؑ خوں روتا رہا وہ قیامت کا سفر، پیروں میں دوہری بیڑیاں ہتکڑی ہاتھوں میں، گردن میں پڑا طوقِ گراں  شام تک کیسے گیا اِس حال میں وہ ناتواں اللہ جانے کس طرح بیمار زندہ رہ گیا جھریاں ...

نوحہ بہت تکلیف ہے بابا

 ستم کے قید خانے میں سکینہؑ کی صدا گونجی میرے رخسار ہیں زخمی، بہت تکلیف ہے باباؑ نہ مر جائے تری بیٹی بہت تکلیف ہے باباؑ ستم کے قید خانے میں سکینہؑ کی صدا گونجی بہت تکلیف ہے باباؑ مِرے کانوں سے اب تک خون رِستا ہے، مرے باباؑ بِنا مرہم ہوا ہے زخم اب ناسور کانوں کا جفا یہ ہو گئی کیسی، بہت تکلیف ہے باباؑ مِری آنکھوں سے اُٹھتا ہے دھواں تشنہ دہانی سے کسی کی پیاس بجھتی ہے بھلا آنکھوں کے پانی سے فقط میں اشک ہوں پیتی، بہت تکلیف ہے باباؑ کمی سے خون کی دیکھو تو چہرہ زرد ہے باباؑ ہیں سوکھے ہونٹ، بالوں میں سفر کی گرد ہے باباؑ عجب تقدیر ہے میری، بہت تکلیف ہے باباؑ شُتر کی پُشت سے ایسے مجھے باندھا گیا باباؑ رسن جکڑی تھی یوں کس کر کہ میرا دم نکلتا تھا رسن سے پُشت ہے زخمی، بہت تکلیف ہے باباؑ بہت تاریک زنداں ہے، جہاں دن میں اندھیرا ہے پتا کچھ بھی نہیں لگتا کہ شب ہے یا سویرا ہے یہ وحشت اور یہ تنہائی، بہت تکلیف ہے باباؑ پرائے دیس میں مجھ پر قیامت کے ستم ٹوٹے ضعیفی آ گئی طِفلی میں وہ رنج و الم ٹوٹے نہیں اب آس جینے کی بہت تکلیف ہے بابا یتیمی کی ستائی ہوں، غم و اندوہ کی ماری مری تقدیر میں کیا ہے سوائے گری...

بے پردہ کھڑا قافلہ آلِ عبا ہے

 بے پردہ کھڑا قافلۂ آلِ عبا ہے سر اپنا جھکائے ہوئے سجادؑ کھڑا ہے بازار ہے، سادات ہیں اور مجمعِ اغیار محمل نہ عماری نہ کسی سر پہ ردا ہے جب زینبؑ و کلثومؑ کھلے سر نظر آئیں سر نیزے سے غازیؑ کا کئی بار گرا ہے اے کاش سروں پر کوئی رکھ دیتا ردائیں  بازار میں سجادؑ یہی سوچ رہا ہے بالوں میں سفیدی ہے، کمر جھک گئی غم سے یوں بعدِ پدر عابدِ مضطرؑ پہ جفا ہے وہ طوقِ گلو، ہتھکڑی، بیڑی وہ سلاسل کس طرح بھلا شام کو بیمار گیا ہے ہے زخمی گلا، زخمی کمر، پاؤں میں چھالے رِستا ہے لہو زخموں سے، مرہم نہ دوا ہے ہر گام قیامت ہے مگر اُف نہیں کرتے ہونٹوں پہ فقط شکرِ خدا شکرِ خدا ہے بھیا مجھے ظالم کے طمانچو سے بچا لو رہ رہ کے سکینہؐ کے لبوں پر یہ صدا ہے سر باپ کا نیزے پہ نظر آیا ہے جس دم رو رو کے یتیمہ کا عجب حال ہوا ہے بے پردہ ہیں بازاروں میں تطہیر کے وارث معبود مرے حشر نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟ کیا آلِ محمدؐ کی اسیری کا بیاں ہو عارفؔ سفرِ شام رقم کس نے کیا ہے عسکری عارفؔ

یاد کرکے شام کا منظر لہو روتے رہے

 یاد کرکے شام کا منظر لہو روتے رہے عابدؑ ہائے شام کہ کہ کر لہو روتے رہے غربتِ عابدؑ پہ دشتِ کربلا سے شام تک  طوق و بیڑی، ہتکڑی، لنگر لہو روتے رہے دیکھ کر اہلِ حرم کو مجمعِ اغیار میں حضرتِ شبیر نیزے پر لہو روتے رہے شمر نے کھینچے جو بے رحمی سے کانوں سے گُہر دخترِ شبیرؑ کے گوہر لہو روتے رہے شاق تھی دل پر حرم کی بے ردائی اس قدر زندگی بھر عابدؑ مضطر لہو روتے رہے اصغرِ بے شیر کی تشنہ دہانی دیکھ کر خلد میں خود ساقیِ کوثر لہو روتے رہے  جب نہ اٹھ پائی علی اکبرؑ کی میت دشت میں سوئے دریا دیکھ کے سرورؑ لہو روتے رہے لوٹ لو زینبؐ کی چادر جس گھڑی بولا شقی  زیرِ خنجر سبطِ پیغمبرؐ لہو روتے رہے کُند خنجر سے گلا کاٹا گیا شبیرؑ کا واحسینا کہ کے پیغمبرؐ لہو روتے رہے چہرا بالوں سے چھپائے تھیں کھڑی سیدانیاں عابدِ مضطر جھکائے سر لہو روتے رہے ہائے رے مظلومیِ اہلِحرم‌ بعدِ حسینؑ آدمی کیا پھوٹ کے پتھر لہو روتے رہے عارفؔ و نادرؔ ہوئی جب غربتِ عابد بیاں پیٹ کے سر آخری رہبر لہو روتے رہے عسکری عارفؔ

خراج عقیدت بحضور رہبر معظم شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رحمت اللہ علیہ

 خلوص و صبر و رضا کے پیکر شہید رہبر سلام تم پر تری شہادت سے قلبِ باطل دہل رہا ہے ستم ندامت سے اپنے ہاتھوں کو مل رہا ہے  یوں لگ رہا ہے نظامِ عالم بدل رہا ہے غرورِ شمر و یزیدِ دوراں بھی جل رہا ہے تو سرخ رو ہے شہید ہو کر سلام تم پر بہت ہیں رہبر جہاں میں لیکن تو بے بدل تھا نیاز و عشقِ خدا سے غافل نہ ایک پل تھا خلافِ فرعونِ وقت آمادۂ جدل تھا اطاعتِ مکتبِ حسینی ترا عمل تھا حضورِ ظالم نہ خم کیا سر سلام تم پر تری شہادت نے نفسِ انساں جھنجھوڑ ڈالا ضمیرِ انسانیت کی غفلت کو توڑ ڈالا بزورِ ایماں ستم کا پنجہ مروڑ ڈالا فرآت وقتِ رواں کے دھارے کو موڑ ڈالا درِ امامِ رضاؑ کے نوکر سلام تم پر عدو یہ سمجھا تھا اب ہے برہم نظامِ ایراں بنے گا عبرت برائے عالم نظامِ ایراں مگر ہوا ہے مزید محکم نظامِ ایراں تری شہادت سے ہے منظّم نظامِ ایراں تو جینا سکھلا گیا ہے مر کر سلام تم پر برائے خوشنودیِ الٰہی تری شہادت  شکستگیِ نظامِ شاہی تری شہادت عدو کے چہرے پہ اک سیاہی تری شہادت بنے گی مظلوم کی گواہی تری شہادت  بروزِ محشر حضورِ داور سلام تم پر حسینیت کو فروغ دینا عمل تھا تیرا خلافِ ظلم و ستم ارادہ اٹل ت...

شبیر کا ماتم ہے یہ شبیر کا ماتم

 شبیر ع کا ماتم ہے یہ شبیر ع کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے یہ.......... ہم اہل عزا کرتے ہیں شبیر کا ماتم مجلس نہ رکے گی یہ محرم نہ رکے گا تا حشر کبھی شاہ کا ماتم نہ رکے گا ہم زندہ رہیں یہ نہ رہیں غم نہ رکے گا یہ سینہ زنی پشت پہ زنجیر کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے....... شبیر ع. سے الفت یہ ہماری رہے باقی یہ آہ و بکا گریہ و زاری رہے باقی تابوت و علم تعزیہ داری رہے باقی جھولے کو سجاکر کرو بے شیر ع. کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے........... زینب ع. کی امانت ہے عزاداریء شبیر ع ظالم سے برائت ہے عزاداریء شبیر ع. مظلوم کی نصرت ہے عزاداریء شبیر ع. ہے ماتمِ شہ زینبِ ع. دلگیر کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے........ باطل سے اُلجھنے کے لئے سامنے آؤ ہوں لاکھ ستمگار نہ تم سر کو جھکاؤ خوشنودیئے خالق کے لئے سر کو کٹاؤ دیتا ہے ہمیں درس یہ شبیر ع. کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے...... جسکو غمِ سرور ع. کا قرینہ نہیں آیا وہ زندہ ہے لیکن اُسے جینا نہیں آیا یا کہئیے کہ ساحل پہ سفینہ نہیں آیا وہ کرتا رہے اپنی ہی تقدیر کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے...... وہ ایک تبسم تھا کہ تلوار دُد...

نوحہ تیر ستم کی زد پہ ہے بچہ ربابؐ کا

 تیرِ ستم کی زد پہ ہے بچہ ربابؐ کا آنے لگا ہے منہ کو کلیجہ ربابؐ کا گردن کو چھیدتا ہوا سرورؑ کو جا لگا ہاتھوں پہ شہؑ کے مر گیا بچہ ربابؐ کا ہوتے ہیں نحر ایسے بھی بچے مرے خدا اصغرؑ کے قتل پر تھا یہ جملہ ربابؐ کا یہ کہ کے رن میں بھیج دیا اپنی جان کو یا رب قبول کیجیو صدقہ ربابؐ کا وہ چلچلاتی دھوپ، دہکتا وہ ریگزار  مُرجھا گیا عطش سے دلارا ربابؐ کا مچھلی کی طرح تڑپا کیا تین روز تک دشتِ بلا میں ہنسلیوں والا ربابؐ کا وارث بھی قتل ہو گیا بچے بھی مر گیے کچھ بھی بچا نہ بعدِ سکینہؐ ربابؐ کا گہوارہ پسر کی جلی لکڑیوں کی خاک باقی یہی تھا ایک اثاثہ ربابؐ کا گودی بھی اُجڑی مانگ بھی عارفؔ اُجڑ گئی اہلحرم میں دُکھ تھا یہ تنہا ربابؐ کا عسکری عارفؔ

مرثیہ علی اکبرؑ

 جب سینہ پہ اکبرؑ نے سناں دشت میں کھائی ہم شکلِ پیمبرؐ نے سناں دشت میں کھائی شہؑ کے مہ انور نے سناں دشت میں کھائی لیلیٰؑ کے گلِ تر نے سناں دشت میں کھائی شہؑ کہتے تھے لو چھن گئی بینائی ہماری اب مرنے کی نزدیک گھڑی آئی ہماری دیتے تھے صدا شاہؑ کہاں ہو علی اکبرؑ اک بار تو بابا کو صدا دو علی اکبرؑ گھبراؤ نہ، کچھ رنج نہ کھاؤ علی اکبرؑ  آتا ہے پدر، دم کو سنبھالو علی اکبرؑ مقتل میں جواں لعل کا غم کھاتے تھے شبیرؑ دو چار قدم چلتے تھے گر جاتے تھے شبیرؑ پہنچے جو قریبِ پسرِ نوجواں سرورؑ دیکھا کہ تڑپتا ہے پڑا خاک پہ اکبرؑ بے ساختہ شبیرؑ نے زانو پہ رکھا سر فرمانے لگے بیٹے سے پھر سبطِ پیمبرؐ آیا ہے پدر غم نہ کرو اے مرے جانی کچھ عرض کرو مجھ سے مرے یوسفِ ثانی سُن کر یہ سخن شہ کے پکارے علی اکبرؑ  سو جان سے بابا یہ پسر صدقہ ہو تم پر کیا حال کہوں بابا کہ دل آتا ہے باہر لگتا ہے کہ چلتی ہے چھری سینہ کے اندر اِس واسطے تکلیف بہت ہوتی ہے بابا برچھی مرے سینے میں کہیں ٹوٹی ہے بابا ممکن ہو تو پھل برچھی کا سینہ سے نکالو  پر ...

شہ کو تقدیر ضعیفی میں کہاں لائی ہے نوحہ

 شہ کو تقدیر ضعیفی میں کہاں لائی ہے نوجواں بیٹے نے سینے پہ سناں کھائی ہے کچھ نہیں دکھتا اندھیرا ہے نگاہوں میں فقط ختم اب ہونے کو شبیرؑ کی بینائی ہے کچھ نہیں دکھتا اندھیرا ہے نگاہوں میں فقط ختم اب ہونے کو شبیرؑ کی بینائی ہے جسکو پروان چڑھایا تھا پھوپی زینبؐ نے اُسی اٹھارہ برس والے کو موت آئی ہے جسکی شادی کا تھا ارمان تجھے اے صغریٰؐ خون کی مہندی رچائے وہ ترا بھائی ہے ہائے پیاسے کو کسی نے نہ پلایا پانی منہ میں کانٹے ہیں پڑے، آنکھ بھی پتھرائی ہے خونِ اکبرِؑ سے کیا بالوں کو لیلیٰ نے خضاب بارہا لاشۂ فرزند پہ غش کھائی ہے خاک پر بیٹھے ہیں شبیرؑ کمر پکڑے ہوئے لاشِ اکبر ہے، بیابان ہے، تنہائی ہے ناز تھا جس پہ حسین ابنِ علی کو عارفؔ اُس جواں لعل کو جنگل کی فضا بھائی ہے عسکری عارفؔ

Nauha Hoto Pe Dam e Aakhir Abbas Ke Nauha Tha

 Hoto pe dam e akhir Abbas ke nauha tha Aqa mere lashe ko khaime me na le jana Masoom sakina se wada na hua pura Aqa mere lashe ko khame me na le jana Koshish to bahot ki par, pahucha na saka pani Ik teer se sab mera armaan hua pani Afsos na baccho ki mai pyas bujha paya Taqdeer ne kaisa din pardes me dikhlaya Zehra ka bhara kunba Pyasa hai lab e darya Kuch mujhse na ho paya Abbas Raha Zinda Bekar hai ab jeena maqsad na hua pura Sah roz ke pyaso ko pani na pila paya Sharminda bahut hu mai       baccho se yahi kehna Payegi khabar jis dam ammu ko qaza ayi Sukhe hue kuze ko todegi meri bacchi  Bardasht nahi hoga usse ye mera sadma Meri pyari sakina jo Godi me meri kheli Ye akhiri khwahish bhi kar paya na mai puri Dil se ye qalaq mere markar bhi na Jayega Mai apki Nusrat ko aya tha madine se Ab hal hua aisa qasir hua Jeene se Pardes me Ab chore jata hu tumhe tanha Machli sa tadapta hai jhoole me Ali Asghar Ye dekh ke chalta hai khanjar sa mire dil par Aye kash ...