ذاکر سے خطاب
آسمانِ سخن و فکر کا طائِر ہونا سدرہِ فہم و فراست کا مسافر ہونا پاک دل، پال زباں، ذہن کا طاہر ہونا کیا بڑی بات ہے شبیرؑ کا ذاکر ہونا سب کے حصے میں نہیں آتی فضیلت ایسی خاص بندوں کو خدا دیتا ہے دولت ایسی ذاکری شہ کی شریفوں کو عطا ہوتی ہے خون میں جس کے رواں کرب و بلا ہوتی ہے سُرمہ آنکھوں کا جسے خاکِ شفا ہوتی ہے جسکی طینت میں وفائے شہدا ہوتی ہیں لڑکھڑاتے ہوئے ایمان سنبھل جاتے ہیں جسکی گفتار سے کردار بدل جاتے ہیں جسکی تقریر کی میزان ہوں قرآن و حدیث جسکی تفہیم کا سامان ہوں قرآن و حدیث جسکے خطبات کا عنوان ہوں قرآن و حدیث جسکے لفظوں کے نگہبان ہوں قرآن و حدیث ذکرِ عالی کے لیے بامِ فلک پر آئے اُسکو حق ہے کہ وہی برسرِ منبر آئے گفتگو ایسی ہو، ذہنوں میں اثر کر جائے سننے والوں کی دل و روح میں گھر کر جائے جنگ ابہام و تذبذب کی بھی سر کر جائے مجلسِ شاہ میں جو آئے سنور کر جائے فرشِ ماتم سے جو مولا کا گداگر اٹھے فہم و ادراک کے کشکول کو بھر کر اٹھے ذکرِ شبیرؑ محمدؐ کی ہے سنت لوگوں ذکرِ شبیرؑ ہے زہراؐ کی امانت لوگوں ذکرِ شبیرؑ ہے زینبؑ کی ریاضت لوگوں ذکرِ شبیرؑ ہے قائم کی وراثت لوگوں ...