Posts

تھے قبرِ برادر پر زینب کے سخن بھیا نوحہ

تھے قبرِ برادر پر زینبؐ کے سخن بھیا کس طرح وطن جائے بن تیرے بہن بھیا مر کر بھی نہ جائے گا دل سے یہ قلق بھیا پھٹتا ہے جگر غم‌ سے، دل ہوتا ہے شق بھیا دو گز بھی نہ دے پائی میں تجھکو کفن بھیا ہوتی جو ردا سر پر میں تجھکو اوڑھا دیتی کچھ پاسِ امامت کو مٹنے‌ سے بچا لیتی عریاں نہ پڑا ہوتا صحرا میں بدن بھیا جس وقت ترا لاشہ عابدؑ کو نظر آیا اندوہ کی شدت سے بیمار یوں گھبرایا لگتا تھا کہ چھوڑے گی اب روح بدن بھیا زنداں کے اندھیروں میں بچی کو قضا آئی پایا جو تمہارا سر وہ تاب نہ لا پائی دنیا سے ہوئی رخصت وہ پابندِ محن بھیا رو رو کے بلاتی تھی عمو کو چچا کی جاں کہتی تھی نکلتا ہے دم میرا پھوپی امّاں جس وقت پڑی اُسکی گردن میں رسن بھیا سجادؑ کی گردن میں تھا طوقِ گراں پُرخار کس طرح گیا پیدل بازار سے وہ بیمارؐ دروں کی اذیت سے تھا زخمی بدن بھیا زہراؐ کی دلاری کے سر پر نہ بچی چادر مر جانا تھا زینبؐ کو جب سر سے چھنی چادر رب جانے کہ زندہ ہے کس طرح بہن بھیا وہ سیکڑوں میلوں کا کیسا تھا سفر ہائے آغوش سے ماؤں کی گر گر کے مَرے بچے کچھ بس نہ چلا‌ ہم‌ تھے پابندِ رسن بھیا عارفؔ ہو بیاں کیسے ہمشیر کا وہ ماتم احساسِ مصائب...

طرحی کلام حسین کہتے تھے مقتل میں میری جاں قاسمؑ

حسینؑ کہتے تھے مقتل میں میری جاں قاسمؑ زمیں پہ بکھرے پڑے ہو کہاں کہاں قاسمؑ عبا میں کیسے اٹھاؤں تمہارے ٹکڑوں کو بہت ہی سخت ہے مجھ پر یہ امتحاں قاسمؑ تمہارے لاش کے ٹکڑوں کو دیکھ کر بیٹا بصد ملال نہ مر جائے تیری ماں قاسمؑ مسل دیا گیا گلزارِ مجتبیٰ کا پھول اُجڑ کے رہ گیا فروا کا گُلستاں قاسمؑ جگر کے ٹکڑے بہتر ہوئے تھے بھائی کے بکھر گیا ہے تو گھوڑوں کے درمیاں قاسمؑ تمہاری لاش ہوئی کربلا میں یوں پامال تمہارے غم میں یہ روتا ہے آسماں قاسمؑ تمہارا سر جو رکھا ہوگا برسرِ نیزا نہ دیکھا جائے گا مادر سے وہ سماں قاسمؑ تو ہم شبیہِ تھا بھیا حسنؑ کی اے بیٹا مٹا دیا گیا رن میں ترا نشاں قاسمؑ تو زندگی میں ہی روندا گیا ہے گھوڑوں سے یہ سوچ کر ہی نکلتی ہے میری جاں قاسمؑ الم سے عارفؔ و نادرؔ کا دل ہوا ٹکڑے بیاں ہو کیسے تری غم کی داستاں قاسمؑ عسکری عارفؔ

اکبرؑ کی اذاں حُرؑ کو جگانے میں لگی ہے

 مصرع طرح: اکبرؑ کی اذاں حُرؑ کو جگانے میں لگی ہے یہ قوم غمِ شہؑ جو منانے میں لگی ہے ہاں فرضِ مودّت کو نبھانے میں لگی ہے ये क़ौम ग़म-ए-शहؑ जो मनाने में लगी है हाँ फ़र्ज़-ए-मवद्दत को निभाने में लगी है। غم شہؑ کا بڑھا جاتا ہے اُتنا ہی زیادہ جتنا اِسے دنیا یہ دبانے میں لگی ہے ग़म शहؑ का बढ़ा जाता है उतना ही ज़्यादा जितना इसे दुनिया ये दबाने में लगी है। بس اپنے بھلے کے لیے باطل کی حکومت آپس میں مسلماں کو لڑانے میں لگی ہے बस अपने भले के लिए बातिल की हुकूमत आपस में मुसलमाँ को लड़ाने में लगी है। ہر انجمنِ ماتمی ماتم کی صدا سے خوابیدہ ضمیروں کو جگانے میں لگی ہے हर अंजुमन-ए-मातमी मातम की सदा से ख़्वाबीदा ज़मीरों को जगाने में लगी है। شبیرؑ کے زانو پہ سُلانے کے لیے ہی اکبرؑ کی اذاں حُرؑ کو جگانے میں لگی ہے शब्बीरؑ के ज़ानू पे सुलाने के लिए ही अकबरؑ की अज़ाँ हुर को जगाने में लगी है। ہم کیا ہیں سرِ عرش ملائک کی جماعت اشکِ غمِ شبیرؑ بہانے میں لگی ہے हम क्या हैं सर-ए-अर्श मलाइक की जमाअत अश्क ए ग़म ए शब्बीर बहाने में लगी है। وہ خطبہ دیا بن...

کربلا سے شام تک کیسا ستم ڈھایا گیا نوحہ

 کربلا سے شام تک کیسا ستم ڈھایا گیا نوجوانی میں ہی عابد پر بڑھاپا آ گیا ٹکرے ٹکرے ہو گیا قاسمؑ سا بھائی دشت میں اپنے سینے پر سناں اکبرؑ نے کھائی دشت میں  ہو گئی عونؑ و محمدؑ سے جدائی دشت میں  تیرِ سہ شعبہ سے اصغرؑ کا گلا چھیدا گیا کند خنجر سے گلا جب باپ کا کاٹا گیا خون برسا آسماں سے ہل گئی کرب و بلا غش میں تھے سجاد گونجی جب منادی کی صدا ہو گیا قتلِ حسین ابنِ علی بے کربلا جل گیے خیمے، لٹے اسباب، ہائے غربتا لوٹ لیں اہلِ ستم نے ماؤں بہنوں کی ردا قید ہوکے شام کی جانب چلی آلِ عبا طوق اور زنجیر‌ میں جکڑے گیے زین العباؑ چار سالہ سن تھا جسکا وہ بہن روتی رہی اپنے گالوں پر طمانچے شمر کے کھاتی رہی ہر طمانچے پر صدا عباسؑ کو دیتی رہی اے‌ مرے بھائی بچا لو کہتی تھی وہ بارہا ہائے اُس دکھیا بہن کو اونٹ سے باندھا گیا ہائے اُس بچی کا رسی سے گلا جکڑا گیا شام کے اندھیر زنداں میں اُسے رکھا گیا اپنی قسمت پر فقط سجادؑ خوں روتا رہا وہ قیامت کا سفر، پیروں میں دوہری بیڑیاں ہتکڑی ہاتھوں میں، گردن میں پڑا طوقِ گراں  شام تک کیسے گیا اِس حال میں وہ ناتواں اللہ جانے کس طرح بیمار زندہ رہ گیا جھریاں ...

نوحہ بیبی سکینہ بہت تکلیف ہے بابا

 ستم کے قید خانے میں سکینہؑ کی صدا گونجی میرے رخسار ہیں زخمی، بہت تکلیف ہے باباؑ نہ مر جائے تری بیٹی بہت تکلیف ہے باباؑ ستم کے قید خانے میں سکینہؑ کی صدا گونجی بہت تکلیف ہے باباؑ مِرے کانوں سے اب تک خون رِستا ہے، مرے باباؑ بِنا مرہم ہوا ہے زخم اب ناسور کانوں کا جفا یہ ہو گئی کیسی، بہت تکلیف ہے باباؑ مِری آنکھوں سے اُٹھتا ہے دھواں تشنہ دہانی سے کسی کی پیاس بجھتی ہے بھلا آنکھوں کے پانی سے فقط میں اشک ہوں پیتی، بہت تکلیف ہے باباؑ کمی سے خون کی دیکھو تو چہرہ زرد ہے باباؑ ہیں سوکھے ہونٹ، بالوں میں سفر کی گرد ہے باباؑ عجب تقدیر ہے میری، بہت تکلیف ہے باباؑ شُتر کی پُشت سے ایسے مجھے باندھا گیا باباؑ رسن جکڑی تھی یوں کس کر کہ میرا دم نکلتا تھا رسن سے پُشت ہے زخمی، بہت تکلیف ہے باباؑ بہت تاریک زنداں ہے، جہاں دن میں اندھیرا ہے پتا کچھ بھی نہیں لگتا کہ شب ہے یا سویرا ہے یہ وحشت اور یہ تنہائی، بہت تکلیف ہے باباؑ پرائے دیس میں مجھ پر قیامت کے ستم ٹوٹے ضعیفی آ گئی طِفلی میں وہ رنج و الم ٹوٹے نہیں اب آس جینے کی بہت تکلیف ہے بابا یتیمی کی ستائی ہوں، غم و اندوہ کی ماری مری تقدیر میں کیا ہے سوائے گری...

بے پردہ کھڑا قافلہ آلِ عبا ہے

 بے پردہ کھڑا قافلۂ آلِ عبا ہے سر اپنا جھکائے ہوئے سجادؑ کھڑا ہے بازار ہے، سادات ہیں اور مجمعِ اغیار محمل نہ عماری نہ کسی سر پہ ردا ہے جب زینبؑ و کلثومؑ کھلے سر نظر آئیں سر نیزے سے غازیؑ کا کئی بار گرا ہے اے کاش سروں پر کوئی رکھ دیتا ردائیں  بازار میں سجادؑ یہی سوچ رہا ہے بالوں میں سفیدی ہے، کمر جھک گئی غم سے یوں بعدِ پدر عابدِ مضطرؑ پہ جفا ہے وہ طوقِ گلو، ہتھکڑی، بیڑی وہ سلاسل کس طرح بھلا شام کو بیمار گیا ہے ہے زخمی گلا، زخمی کمر، پاؤں میں چھالے رِستا ہے لہو زخموں سے، مرہم نہ دوا ہے ہر گام قیامت ہے مگر اُف نہیں کرتے ہونٹوں پہ فقط شکرِ خدا شکرِ خدا ہے بھیا مجھے ظالم کے طمانچو سے بچا لو رہ رہ کے سکینہؐ کے لبوں پر یہ صدا ہے سر باپ کا نیزے پہ نظر آیا ہے جس دم رو رو کے یتیمہ کا عجب حال ہوا ہے بے پردہ ہیں بازاروں میں تطہیر کے وارث معبود مرے حشر نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟ کیا آلِ محمدؐ کی اسیری کا بیاں ہو عارفؔ سفرِ شام رقم کس نے کیا ہے عسکری عارفؔ

یاد کرکے شام کا منظر لہو روتے رہے

 یاد کرکے شام کا منظر لہو روتے رہے عابدؑ ہائے شام کہ کہ کر لہو روتے رہے غربتِ عابدؑ پہ دشتِ کربلا سے شام تک  طوق و بیڑی، ہتکڑی، لنگر لہو روتے رہے دیکھ کر اہلِ حرم کو مجمعِ اغیار میں حضرتِ شبیر نیزے پر لہو روتے رہے شمر نے کھینچے جو بے رحمی سے کانوں سے گُہر دخترِ شبیرؑ کے گوہر لہو روتے رہے شاق تھی دل پر حرم کی بے ردائی اس قدر زندگی بھر عابدؑ مضطر لہو روتے رہے اصغرِ بے شیر کی تشنہ دہانی دیکھ کر خلد میں خود ساقیِ کوثر لہو روتے رہے  جب نہ اٹھ پائی علی اکبرؑ کی میت دشت میں سوئے دریا دیکھ کے سرورؑ لہو روتے رہے لوٹ لو زینبؐ کی چادر جس گھڑی بولا شقی  زیرِ خنجر سبطِ پیغمبرؐ لہو روتے رہے کُند خنجر سے گلا کاٹا گیا شبیرؑ کا واحسینا کہ کے پیغمبرؐ لہو روتے رہے چہرا بالوں سے چھپائے تھیں کھڑی سیدانیاں عابدِ مضطر جھکائے سر لہو روتے رہے ہائے رے مظلومیِ اہلِحرم‌ بعدِ حسینؑ آدمی کیا پھوٹ کے پتھر لہو روتے رہے عارفؔ و نادرؔ ہوئی جب غربتِ عابد بیاں پیٹ کے سر آخری رہبر لہو روتے رہے عسکری عارفؔ

خراج عقیدت بحضور رہبر معظم شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رحمت اللہ علیہ

 خلوص و صبر و رضا کے پیکر شہید رہبر سلام تم پر تری شہادت سے قلبِ باطل دہل رہا ہے ستم ندامت سے اپنے ہاتھوں کو مل رہا ہے  یوں لگ رہا ہے نظامِ عالم بدل رہا ہے غرورِ شمر و یزیدِ دوراں بھی جل رہا ہے تو سرخ رو ہے شہید ہو کر سلام تم پر بہت ہیں رہبر جہاں میں لیکن تو بے بدل تھا نیاز و عشقِ خدا سے غافل نہ ایک پل تھا خلافِ فرعونِ وقت آمادۂ جدل تھا اطاعتِ مکتبِ حسینی ترا عمل تھا حضورِ ظالم نہ خم کیا سر سلام تم پر تری شہادت نے نفسِ انساں جھنجھوڑ ڈالا ضمیرِ انسانیت کی غفلت کو توڑ ڈالا بزورِ ایماں ستم کا پنجہ مروڑ ڈالا فرآت وقتِ رواں کے دھارے کو موڑ ڈالا درِ امامِ رضاؑ کے نوکر سلام تم پر عدو یہ سمجھا تھا اب ہے برہم نظامِ ایراں بنے گا عبرت برائے عالم نظامِ ایراں مگر ہوا ہے مزید محکم نظامِ ایراں تری شہادت سے ہے منظّم نظامِ ایراں تو جینا سکھلا گیا ہے مر کر سلام تم پر برائے خوشنودیِ الٰہی تری شہادت  شکستگیِ نظامِ شاہی تری شہادت عدو کے چہرے پہ اک سیاہی تری شہادت بنے گی مظلوم کی گواہی تری شہادت  بروزِ محشر حضورِ داور سلام تم پر حسینیت کو فروغ دینا عمل تھا تیرا خلافِ ظلم و ستم ارادہ اٹل ت...

شبیر کا ماتم ہے یہ شبیر کا ماتم

 شبیر ع کا ماتم ہے یہ شبیر ع کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے یہ.......... ہم اہل عزا کرتے ہیں شبیر کا ماتم مجلس نہ رکے گی یہ محرم نہ رکے گا تا حشر کبھی شاہ کا ماتم نہ رکے گا ہم زندہ رہیں یہ نہ رہیں غم نہ رکے گا یہ سینہ زنی پشت پہ زنجیر کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے....... شبیر ع. سے الفت یہ ہماری رہے باقی یہ آہ و بکا گریہ و زاری رہے باقی تابوت و علم تعزیہ داری رہے باقی جھولے کو سجاکر کرو بے شیر ع. کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے........... زینب ع. کی امانت ہے عزاداریء شبیر ع ظالم سے برائت ہے عزاداریء شبیر ع. مظلوم کی نصرت ہے عزاداریء شبیر ع. ہے ماتمِ شہ زینبِ ع. دلگیر کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے........ باطل سے اُلجھنے کے لئے سامنے آؤ ہوں لاکھ ستمگار نہ تم سر کو جھکاؤ خوشنودیئے خالق کے لئے سر کو کٹاؤ دیتا ہے ہمیں درس یہ شبیر ع. کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے...... جسکو غمِ سرور ع. کا قرینہ نہیں آیا وہ زندہ ہے لیکن اُسے جینا نہیں آیا یا کہئیے کہ ساحل پہ سفینہ نہیں آیا وہ کرتا رہے اپنی ہی تقدیر کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے...... وہ ایک تبسم تھا کہ تلوار دُد...

نوحہ تیر ستم کی زد پہ ہے بچہ ربابؐ کا

 تیرِ ستم کی زد پہ ہے بچہ ربابؐ کا آنے لگا ہے منہ کو کلیجہ ربابؐ کا گردن کو چھیدتا ہوا سرورؑ کو جا لگا ہاتھوں پہ شہؑ کے مر گیا بچہ ربابؐ کا ہوتے ہیں نحر ایسے بھی بچے مرے خدا اصغرؑ کے قتل پر تھا یہ جملہ ربابؐ کا یہ کہ کے رن میں بھیج دیا اپنی جان کو یا رب قبول کیجیو صدقہ ربابؐ کا وہ چلچلاتی دھوپ، دہکتا وہ ریگزار  مُرجھا گیا عطش سے دلارا ربابؐ کا مچھلی کی طرح تڑپا کیا تین روز تک دشتِ بلا میں ہنسلیوں والا ربابؐ کا وارث بھی قتل ہو گیا بچے بھی مر گیے کچھ بھی بچا نہ بعدِ سکینہؐ ربابؐ کا گہوارہ پسر کی جلی لکڑیوں کی خاک باقی یہی تھا ایک اثاثہ ربابؐ کا گودی بھی اُجڑی مانگ بھی عارفؔ اُجڑ گئی اہلحرم میں دُکھ تھا یہ تنہا ربابؐ کا عسکری عارفؔ