کربلا سے شام تک کیسا ستم ڈھایا گیا نوحہ
کربلا سے شام تک کیسا ستم ڈھایا گیا نوجوانی میں ہی عابد پر بڑھاپا آ گیا ٹکرے ٹکرے ہو گیا قاسمؑ سا بھائی دشت میں اپنے سینے پر سناں اکبرؑ نے کھائی دشت میں ہو گئی عونؑ و محمدؑ سے جدائی دشت میں تیرِ سہ شعبہ سے اصغرؑ کا گلا چھیدا گیا کند خنجر سے گلا جب باپ کا کاٹا گیا خون برسا آسماں سے ہل گئی کرب و بلا غش میں تھے سجاد گونجی جب منادی کی صدا ہو گیا قتلِ حسین ابنِ علی بے کربلا جل گیے خیمے، لٹے اسباب، ہائے غربتا لوٹ لیں اہلِ ستم نے ماؤں بہنوں کی ردا قید ہوکے شام کی جانب چلی آلِ عبا طوق اور زنجیر میں جکڑے گیے زین العباؑ چار سالہ سن تھا جسکا وہ بہن روتی رہی اپنے گالوں پر طمانچے شمر کے کھاتی رہی ہر طمانچے پر صدا عباسؑ کو دیتی رہی اے مرے بھائی بچا لو کہتی تھی وہ بارہا ہائے اُس دکھیا بہن کو اونٹ سے باندھا گیا ہائے اُس بچی کا رسی سے گلا جکڑا گیا شام کے اندھیر زنداں میں اُسے رکھا گیا اپنی قسمت پر فقط سجادؑ خوں روتا رہا وہ قیامت کا سفر، پیروں میں دوہری بیڑیاں ہتکڑی ہاتھوں میں، گردن میں پڑا طوقِ گراں شام تک کیسے گیا اِس حال میں وہ ناتواں اللہ جانے کس طرح بیمار زندہ رہ گیا جھریاں ...