Posts

ذاکر سے خطاب

Image
آسمانِ سخن و فکر کا طائِر ہونا سدرہِ فہم و فراست کا مسافر ہونا پاک دل، پال زباں، ذہن کا طاہر ہونا کیا بڑی بات ہے شبیرؑ کا ذاکر ہونا سب کے حصے میں نہیں آتی فضیلت ایسی خاص بندوں کو خدا دیتا ہے دولت ایسی ذاکری شہ کی شریفوں کو عطا ہوتی ہے خون میں جس کے رواں کرب و بلا ہوتی ہے سُرمہ آنکھوں کا جسے خاکِ شفا ہوتی ہے جسکی طینت میں وفائے شہدا ہوتی ہیں  لڑکھڑاتے ہوئے ایمان سنبھل جاتے ہیں جسکی گفتار سے کردار بدل جاتے ہیں جسکی تقریر کی میزان ہوں قرآن و حدیث جسکی تفہیم کا سامان ہوں قرآن و حدیث  جسکے خطبات کا عنوان ہوں قرآن و حدیث جسکے لفظوں کے نگہبان ہوں قرآن و حدیث ذکرِ عالی کے لیے بامِ فلک پر آئے اُسکو حق ہے کہ وہی برسرِ منبر آئے گفتگو ایسی ہو، ذہنوں میں اثر کر جائے سننے والوں کی دل و روح میں گھر کر جائے جنگ ابہام و تذبذب کی بھی سر کر جائے مجلسِ شاہ میں جو آئے سنور کر جائے فرشِ ماتم سے جو مولا کا گداگر اٹھے فہم و ادراک کے کشکول کو بھر کر اٹھے ذکرِ شبیرؑ محمدؐ کی ہے سنت لوگوں ذکرِ شبیرؑ ہے زہراؐ کی امانت لوگوں ذکرِ شبیرؑ ہے زینبؑ کی ریاضت لوگوں ذکرِ شبیرؑ ہے قائم کی وراثت لوگوں ...

منقبت حضرت فضہؓ

Image
رتبہ اِس بات سے ظاہر ہے تمہارا فضہ تمکو حسنینؑ نے ماں کہ کے پکارا فضہؓ فاطمہ بنتِ محمدؐ کی کنیزی کے لیے تمکو اللہ نے جنّت سے اتارا فضہؓ کچھ تو حسنینؑ کو احساسِ یتیمی کم تھا بعدِ زہراؐ یوں دیا اُنکو سہارا فضہؓ رشک کرتی ہیں تمہیں دیکھ کے حورانِ جناں اس قدر عالی مقدر ہے تمہارا فضہؓ ہیں اگر فاطمہؐ قرآنِ حیا و عصمت بخدا ہیں اُسی قرآن کا پارا فضہؓ مریمؐ و آسیہؐ اِس بات پہ ہیں رشک کناں تم نے حسنینؑ کی زلفوں کو سنوارا فضہؐ ڈھک لیا مثلِ سپر بنتِ علیؑ کو تم نے کر دیا حقِّ کنیزی ادا سارا فضہؓ خوب آتا تھا ہنر چاندی بنانے کا تمہیں مختصر پر ہی کیا پھر بھی گزارا فضہؓ کیا شرف پایا ہے زہراؐ کی کنیزی کے طفیل پہلا جنت میں قدم ہوگا تمہارا فضہؓ خود بخود ڈھل گئی چاندی میں لِکھت عارفؔ کی جب ورق پر تری مدحت کو اتارا فضہؓ

مرثیہ درحال امام حسن عسکری علیہ السلام

Image
یا رب طیورِ فکر کو پرواز کر عطا لفظوں کو میرے معنیِ ممتاز کر عطا مدّاحیِ امامؑ کا اعزاز کر عطا مالک مِرے سخن کو وہ انداز کر عطا انعام عسکریؑ و نقیؑ و جوادؑ دیں اشعار سُن کے ہادیِ دوراں بھی داد دیں یا رب عطا ہو بخششِ ادراک و آگہی لکھنا ہے مجھ کو مدحتِ ابنِ علی نقیؑ ھادی، ذکی و صامت و عابد، ولی، سخی عادل، کریم،‌‌ زاہد و دانا و متّقی فیضِ کرم سے اِن کے تہی دست، شاہ ہے سامرّا اِنکے عزّ و شرف کا گواہ ہے نازاں خدا ہے جس پہ وہ عصمت ہوئی نصیب تطہیرِ انّما کی طہارت ہوئی نصیب حسنینؑ و مرتضیٰؑ کی وراثت ہوئی نصیب بائیسویں برس میں امامت ہوئی نصیب چرچہ ہے اِن کے علم کا کُل کائنات میں پنہاں ہیں کُل صفاتِ نبیؐ اِنکی ذات میں راہِ خدا پہ رہتا ہے ثابت قدم امام وقتِ جدال کھینچے ہے تیغِ دو دم امام کاغز پہ مثلِ تیغ چلائے قلم امام کرتا نہیں قبول نظامِ ستم امام کرتا ہے ختم صبر سے یوں اقتدار کو دیتا ہے مات حلق سے خنجر کی دھار کو عباسیوں کے ظلم اُمیہ سے تھے سوا جعفرؑ ہوں یا ہوں موسیؑ کاظم ہوں یا رضاؑ غربت میں کوئی اور کوئی زنداں میں مر گیا پچّیس سال میں ہی تقیؑ کر گئے قضا بعدِ پدر نقیؑ بھی ہوئے زہر سے ش...

نوحہ در حال شہادت امام حسن علیہ السلام

Image

مرثیہ درحال واپسی اہلِ حرم

Image
چھوٹ کر قیدِ مصیبت سے حرم آئے ہیں  نوحہ کرتے ہوئے بادیدۂ نم آئے ہیں کرکے تاریخ اسیری کی رقم آئے ہیں کشتۂ دہرِ جفا، کشتۂ غم آئے ہیں سب پہ‌ طاری وہی کیفیتِ زندانی ہے صاف چہروں سے عیاں غم کی فراوانی ہے مضطرب حال، اسیرانِ بلا آئے ہیں سوگوارانِ شہیدانِ جفا آئے ہیں لُٹ کے پردیس سے خاصانِ خدا آتے ہیں غل مدینہ میں ہے کہ آلِ عبا آئے ہیں گزرے ایام کے احساس سے تھراتے ہیں اشک بے ساختہ آنکھوں سے گِرے جاتے ہیں مقصدِ حضرتِ شبیرؑ بچا لائے ہیں حُرمتِ چادرِ تطہیر بچا لائے ہیں دین کی دائمی تصویر بچا لائے ہیں یعنی اسلام کی طوقیر بچا لائے ہیں شام میں لاشۂ بیعت کو کچلنے والے جیت کر آئے رہِ خار پہ چلنے والے حادثے ایسے ہوئے جنکا ازالہ ہی نہیں  ضبط کیسے ہو کوئی چاہنے والا ہی نہیں  جس پہ نازاں تھے وہی گیسوؤں والا ہی نہیں گھر میں کیا جائیں کہ اب گھر کا اُجالا ہی نہیں کھا کے پیکان و سناں خاک کا پیوند ہوئے جن سے آباد تھا گھر، قتل وہ فرزند ہوئے گھر سے نکلے تھے تو وہ نورِ نظر سامنے تھے لخت دل، لخت جگر وقتِ سفر سامنے تھے خانۂ ہاشمی کے شمس و قمر سامنے تھے چمنِ بنتِ نبی...

نوحہ چہلم بپا ہے آج حسینی سپاہ کا

نوحہ درحال چہلم شہدائے کربلا ہر سمت درد و سوز کا منظر ہے آشکار چہلم بپا ہے آج حسینی سپاہ کا دل غم سے پاش پاش ہے، آنکھیں ہیں اشک بار چہلم بپا ہے آج حسینی سپاہ کا سہ روز و شب جنہیں نہ ملا ایک بوند آب تشنہ لبی سے سب کے جگر ہو گئے کباب پیاسے شہید ہو گئے سرور کے جاں نثار وہ جن کے ریگِ گرم پہ لاشے تھے بے کفن بکھرے پڑے تھے خاک پہ جو نازنیں بدن جسموں کو جن کے ڈھانپ گیا دشت کا غبار زینبؑ کی زندگی کے سہارے گزر گئے ماموں پہ اپنی جانوں کو قربان کر گئے روئی نہ جن کے لاشوں پہ زینبؑ جگر فگار گھوڑوں سے تیرہ سال کا بچہ کچل گیا ماں کی سب آرزو کا جنازہ نکل گیا ٹکڑوں میں بٹ کے رہ گیا شبرؑ کا گُل عذار دریا پہ جب دلیر کے بازو ہوئے قلم مشکِ سکینہؑ چھد گئی، ٹھنڈا ہوا عَلَم مولا کمر کو تھام کے روتے تھے زار زار خیمے میں جس کی لاش نہ مقتل سے آ سکی بچوں نے کوزے توڑ دیے جب خبر ملی شانے کٹا کے مر گئے عباسؑ نامدار اٹھارہ سال والا وہ کڑیل جواں پسر برچھی لگی جو سینے پہ، ٹکڑے ہوا جگر مرنے سے جس کے لُٹ گیا شبیرؑ کا قرار مرنے سے جس کے باپ کی بینائی کھو گئی لیلیٰ پسر کی لاش پہ بے ہوش ہو گئی کرتی رہی وطن میں بہن جس کا انتظ...

تھے قبرِ برادر پر زینب کے سخن بھیا نوحہ

تھے قبرِ برادر پر زینبؐ کے سخن بھیا کس طرح وطن جائے بن تیرے بہن بھیا مر کر بھی نہ جائے گا دل سے یہ قلق بھیا پھٹتا ہے جگر غم‌ سے، دل ہوتا ہے شق بھیا دو گز بھی نہ دے پائی میں تجھکو کفن بھیا ہوتی جو ردا سر پر میں تجھکو اوڑھا دیتی کچھ پاسِ امامت کو مٹنے‌ سے بچا لیتی عریاں نہ پڑا ہوتا صحرا میں بدن بھیا جس وقت ترا لاشہ عابدؑ کو نظر آیا اندوہ کی شدت سے بیمار یوں گھبرایا لگتا تھا کہ چھوڑے گی اب روح بدن بھیا زنداں کے اندھیروں میں بچی کو قضا آئی پایا جو تمہارا سر وہ تاب نہ لا پائی دنیا سے ہوئی رخصت وہ پابندِ محن بھیا رو رو کے بلاتی تھی عمو کو چچا کی جاں کہتی تھی نکلتا ہے دم میرا پھوپی امّاں جس وقت پڑی اُسکی گردن میں رسن بھیا سجادؑ کی گردن میں تھا طوقِ گراں پُرخار کس طرح گیا پیدل بازار سے وہ بیمارؐ دروں کی اذیت سے تھا زخمی بدن بھیا زہراؐ کی دلاری کے سر پر نہ بچی چادر مر جانا تھا زینبؐ کو جب سر سے چھنی چادر رب جانے کہ زندہ ہے کس طرح بہن بھیا وہ سیکڑوں میلوں کا کیسا تھا سفر ہائے آغوش سے ماؤں کی گر گر کے مَرے بچے کچھ بس نہ چلا‌ ہم‌ تھے پابندِ رسن بھیا عارفؔ ہو بیاں کیسے ہمشیر کا وہ ماتم احساسِ مصائب...

طرحی کلام حسین کہتے تھے مقتل میں میری جاں قاسمؑ

حسینؑ کہتے تھے مقتل میں میری جاں قاسمؑ زمیں پہ بکھرے پڑے ہو کہاں کہاں قاسمؑ عبا میں کیسے اٹھاؤں تمہارے ٹکڑوں کو بہت ہی سخت ہے مجھ پر یہ امتحاں قاسمؑ تمہارے لاش کے ٹکڑوں کو دیکھ کر بیٹا بصد ملال نہ مر جائے تیری ماں قاسمؑ مسل دیا گیا گلزارِ مجتبیٰ کا پھول اُجڑ کے رہ گیا فروا کا گُلستاں قاسمؑ جگر کے ٹکڑے بہتر ہوئے تھے بھائی کے بکھر گیا ہے تو گھوڑوں کے درمیاں قاسمؑ تمہاری لاش ہوئی کربلا میں یوں پامال تمہارے غم میں یہ روتا ہے آسماں قاسمؑ تمہارا سر جو رکھا ہوگا برسرِ نیزا نہ دیکھا جائے گا مادر سے وہ سماں قاسمؑ تو ہم شبیہِ تھا بھیا حسنؑ کی اے بیٹا مٹا دیا گیا رن میں ترا نشاں قاسمؑ تو زندگی میں ہی روندا گیا ہے گھوڑوں سے یہ سوچ کر ہی نکلتی ہے میری جاں قاسمؑ الم سے عارفؔ و نادرؔ کا دل ہوا ٹکڑے بیاں ہو کیسے تری غم کی داستاں قاسمؑ عسکری عارفؔ

اکبرؑ کی اذاں حُرؑ کو جگانے میں لگی ہے

 مصرع طرح: اکبرؑ کی اذاں حُرؑ کو جگانے میں لگی ہے یہ قوم غمِ شہؑ جو منانے میں لگی ہے ہاں فرضِ مودّت کو نبھانے میں لگی ہے ये क़ौम ग़म-ए-शहؑ जो मनाने में लगी है हाँ फ़र्ज़-ए-मवद्दत को निभाने में लगी है। غم شہؑ کا بڑھا جاتا ہے اُتنا ہی زیادہ جتنا اِسے دنیا یہ دبانے میں لگی ہے ग़म शहؑ का बढ़ा जाता है उतना ही ज़्यादा जितना इसे दुनिया ये दबाने में लगी है। بس اپنے بھلے کے لیے باطل کی حکومت آپس میں مسلماں کو لڑانے میں لگی ہے बस अपने भले के लिए बातिल की हुकूमत आपस में मुसलमाँ को लड़ाने में लगी है। ہر انجمنِ ماتمی ماتم کی صدا سے خوابیدہ ضمیروں کو جگانے میں لگی ہے हर अंजुमन-ए-मातमी मातम की सदा से ख़्वाबीदा ज़मीरों को जगाने में लगी है। شبیرؑ کے زانو پہ سُلانے کے لیے ہی اکبرؑ کی اذاں حُرؑ کو جگانے میں لگی ہے शब्बीरؑ के ज़ानू पे सुलाने के लिए ही अकबरؑ की अज़ाँ हुर को जगाने में लगी है। ہم کیا ہیں سرِ عرش ملائک کی جماعت اشکِ غمِ شبیرؑ بہانے میں لگی ہے हम क्या हैं सर-ए-अर्श मलाइक की जमाअत अश्क ए ग़म ए शब्बीर बहाने में लगी है। وہ خطبہ دیا بن...

کربلا سے شام تک کیسا ستم ڈھایا گیا نوحہ

 کربلا سے شام تک کیسا ستم ڈھایا گیا نوجوانی میں ہی عابد پر بڑھاپا آ گیا ٹکرے ٹکرے ہو گیا قاسمؑ سا بھائی دشت میں اپنے سینے پر سناں اکبرؑ نے کھائی دشت میں  ہو گئی عونؑ و محمدؑ سے جدائی دشت میں  تیرِ سہ شعبہ سے اصغرؑ کا گلا چھیدا گیا کند خنجر سے گلا جب باپ کا کاٹا گیا خون برسا آسماں سے ہل گئی کرب و بلا غش میں تھے سجاد گونجی جب منادی کی صدا ہو گیا قتلِ حسین ابنِ علی بے کربلا جل گیے خیمے، لٹے اسباب، ہائے غربتا لوٹ لیں اہلِ ستم نے ماؤں بہنوں کی ردا قید ہوکے شام کی جانب چلی آلِ عبا طوق اور زنجیر‌ میں جکڑے گیے زین العباؑ چار سالہ سن تھا جسکا وہ بہن روتی رہی اپنے گالوں پر طمانچے شمر کے کھاتی رہی ہر طمانچے پر صدا عباسؑ کو دیتی رہی اے‌ مرے بھائی بچا لو کہتی تھی وہ بارہا ہائے اُس دکھیا بہن کو اونٹ سے باندھا گیا ہائے اُس بچی کا رسی سے گلا جکڑا گیا شام کے اندھیر زنداں میں اُسے رکھا گیا اپنی قسمت پر فقط سجادؑ خوں روتا رہا وہ قیامت کا سفر، پیروں میں دوہری بیڑیاں ہتکڑی ہاتھوں میں، گردن میں پڑا طوقِ گراں  شام تک کیسے گیا اِس حال میں وہ ناتواں اللہ جانے کس طرح بیمار زندہ رہ گیا جھریاں ...