مسدس مولا عباس علمدارؑ

 مسدس باب الحوائج حضرت عباس علمدارؑ

میں ہوں عباسؑ مرا باب حوائج ہے لقب

خاندانِ بنی ھاشم کا قمر کہتے ہیں سب

مرا حملہ ہے قیامت مرا انداز غضب 

کانپتے ہیں مری ہیبت سے شجاعانِ عرب

ناوکِ چشم یوں سینے میں اتر جاتا ہے

مرا دشمن تو مجھے دیکھ کے مر جاتا ہے


 اپنے بابا کی دعاؤں کا نتیجہ میں ہوں

گود میں حیدرؑ و حسنینؑ کی کھیلا میں ہوں 

مختصر ہے پسرِ فاطمہ زہراؐ میں ہوں

پنجتن پاک کی آنکھوں کا اجالا میں ہوں

حسنِ اخلاق و وفادارای کا مفہوم ہوں میں

راحتِ جان و دلِ زینبؐ و کلثومؐ ہوں


ختم ہے جس پہ وفا ایسی کہانی میں ہوں

قلزمِ مہر و محبت کی روانی میں ہوں

جزبۂ نصرت و طاعت کے‌ معانی میں ہوں

مختصر ہے اسداللہ کا ثانی میں ہوں

ضیغمِ شیرِ خدائے ازلی کہتے ہیں

سورمہ مجھکو زمانے کے علیؑ کہتے ہیں


اپنی تعداد پہ اِتراتے ہیں کیوں بانیِ شر

شیر کا سامنا کرنے کو ہے درکار جگر

ورنہ ہو جاتی ہے تعداد ہزاروں کی صِفر

شیر کے مدِّ مقابل بھی ہوں روباہ اگر

پاس آتے نہیں بس دور سے غرّاتے ہیں 

دُم دبائے ہوئے جنگل کو چلے جاتے ہیں


زندگانی ہے مری وقف برائے شبیرؑ

مرے سینے میں ہے لبریز ولائے شبیرؑ

خادمِ سیدِ ابرار، گدائے شبیرؑ

سرمۂ چشم ہے گردِ کفِ پائے شبیرؑ

جینا مرنا ہے مرا سبطِ پیمبر کے لیے

مری تخلیق ہوئی خدمتِ سرورؑ کے لیے


خانوادے میں مرے چار علمدار ہوئے

سب کے سب‌‌ دینِ محمدؐ کے وفادار ہوئے 

پہلے حمزہ ہوئے پھر جعفرِ طیارؑ ہوئے

پھر علی شیرِ خدا حیدرِ کرّارؑ ہوئے 

بعد از شیرِ خدا میں نے یہ منصب پایا

علمِ احمدِ مختار مِرے ہاتھ آیا


کب زمانے نے مری تیغ کے جوہر دیکھے

صرف تسلیم و رضا، ضبط کے منظر دیکھے

مری آنکھوں میں نہاں غم کے سمندر دیکھے

کس میں ہمت تھی جو زینبؐ کو کھلے سر دیکھے

خود کو راضی بہ رضائے شہِ ابرار کیا


حُکم سرور تھا سو ارمانِ وغا مار دیا

عسکری عارفؔ

Comments

Popular posts from this blog

مسدس مولا عباس

منقبت مولا علی علیہ السلام

منقبت رسول اللہ ص اور امام جعفر صادق علیہ السلام