مسدس مولا عباسؑ
لشکرِ شاہِ شہیداں کا علمدار ہوں میں
پردہء ثانیِ زہرا کا نگہدار ہوں میں
ثانیِ شیرِ خدا، دین کی دیوار ہوں میں
جسکی تمثیل نہیں ہے وہ وفادار ہوں میں
پیاس پانی کی بجھائے جو وہی پیاس ہوں میں
ہاں تمنائے علیؑ ہوں سخی عباسؑ ہوں میں
اپنی پہچان زمانے پہ عیاں کرتا ہوں
آج میں اپنی حقیقت بھی بیاں کرتا ہوں
میں تو باطل کے ارادوں کو دھواں کرتا ہوں
اپنی نظروں سے جدا جسم سے جاں کرتا ہوں
کربلا میں نہیں تلوار چلائی میں نے
اپنی ہیبت سے ہی جیتی ہے ترائی میں نے
ہم اگر آئیں گے میدان میں شیروں کی طرح
سر نظر آئیں گے اڑتے ہوئے پتوں کی طرح
تن بکھر جائیں گے اورآق کے ٹکڑوں کی طرح
خونِ رگ برسےگا طوفان کے دھاروں کی طرح
نہر ہوگی نہ کوئ جنگ کا منظر ہوگا
دشتِ کربل تو فقط خوں کا سمندر ہوگا
میں اگر چاہوں تو چلّو میں سما لوں دریا
یہ زمیں کیا ہے ستاروں سے نکالوں دریا
زور سے اپنی نگاہوں کے اٹھا لوں دریا
کاٹ کے تیغ سے خیمے میں بہا لوں دریا
سنگ سے، ریت سے، کہسار سے پانی نکلے
مرے اک اِذن پہ سنسار سے پانی نکلے
ساری دنیا میں ہے مشہور سخاوت میری
دِل ہلاتی ہے لعینوں کا شجاعت میری
آسماں لرزاں ہے سن سن کے خطابت میری
خاک کر دیتی ہے بجلی کو جلالت میری
چاند شرماتا ہے چہرے کی چمک ایسی ہے
اور زمیں ہلتی ہے پیروں کی دھمک ایسی ہے
مرضیِ حضرتِ شبیرؑ اگر پا جاؤں
جانبِ نہر کو بس کچھ ہی پلو میں جاؤں
دشمنِ دیں پہ گھٹا موت کی میں برساؤں
فوجِ اعدا کو قیامت کا سماں دکھلاؤں
شور اٹھے گا یہ فوجوں میں دہائی عباسؑ
ختم کر دیجے خدارا یہ لڑائی عباسؑ
کربلا میں نظر آیا مری ہیبت کا اثر
مری آمد سے ہی لرزاں تھے سبھی بانیِ شر
پاؤں رکھتے تھے اِدھر خوف سے پڑتے تھے اُدھر
ٹوٹے نیزے نے اڑا ڈالے جفاکاروں کے سر
جھیل پائے نہ عدو ایک بھی حملہ میرا
چند لمحوں میں تھا دریا کا علاقہ میرا
ٹک نہیں پاتے ہیں میداں میں قدم ٹوٹتے ہیں
کھوکھلی شان بھی اور جھوٹے حشم ٹوٹتے ہیں
دیکھ کر مجھکو ستمگاروں کے دم ٹوٹتے ہیں
لشکرِ آلِ امیہ پہ جب ہم ٹوٹتے ہیں
سر ہواؤں میں سفر کرتے ہیں دستار کے ساتھ
گھوڑے مٹی میں نظر آتے ہیں اسوار کے ساتھ
پائے شبیرؑ کی مٹی سے محبت ہے مجھے
حکمِ آقا پہ عمل کرنے کی عادت ہے مجھے
خدمتِ شاہؑ سے اک پل کہاں فرصت ہے مجھے
اس قدر سیدِ ابرار سے قربت ہے مجھے
اپنے آقا پہ دل و جان سے قربان ہوں میں
حشر تک سبطِ پیمبرؑ کا نگہبان ہوں میں
پرچموں کا جو ہے سلطان، علم میرا ہے
دینِ احمدؑ کا نگہبان، علم میرا ہے
اہلِ ایمان کی پہچان،علم میرا ہے
ذی شرف، عالی و ذیشان، علم میرا ہے
جب فضا میں یہ علم شان سے لہراتا ہے
عرش سے چومنے جبریل چلا آتا ہے
دین اسلام کی بنیاد ہیں دو ہاتھ مرے
نعمتِ حق ہیں خداداد ہیں دو ہاتھ مرے
تاابد کٹ کے بھی آباد ہیں دو ہاتھ مرے
اس لیے حشر تک آزاد ہیں دو ہاتھ مرے
رزق و اولاد و صحت علم و ہنر بانٹتا ہوں
اپنے ہاتھوں سے میں جنت کے ثمر بانٹتا ہوں
عسکری عارفؔ
Comments
Post a Comment