لشکرِ شاہِ شہیداں کا علمدار ہوں میں پردہء ثانیِ زہرا کا نگہدار ہوں میں ثانیِ شیرِ خدا، دین کی دیوار ہوں میں جسکی تمثیل نہیں ہے وہ وفادار ہوں میں پیاس پانی کی بجھائے جو وہی پیاس ہوں میں ہاں تمنائے علیؑ ہوں سخی عباسؑ ہوں میں اپنی پہچان زمانے پہ عیاں کرتا ہوں آج میں اپنی حقیقت بھی بیاں کرتا ہوں میں تو باطل کے ارادوں کو دھواں کرتا ہوں اپنی نظروں سے جدا جسم سے جاں کرتا ہوں کربلا میں نہیں تلوار چلائی میں نے اپنی ہیبت سے ہی جیتی ہے ترائی میں نے ہم اگر آئیں گے میدان میں شیروں کی طرح سر نظر آئیں گے اڑتے ہوئے پتوں کی طرح تن بکھر جائیں گے اورآق کے ٹکڑوں کی طرح خونِ رگ برسےگا طوفان کے دھاروں کی طرح نہر ہوگی نہ کوئ جنگ کا منظر ہوگا دشتِ کربل تو فقط خوں کا سمندر ہوگا میں اگر چاہوں تو چلّو میں سما لوں دریا یہ زمیں کیا ہے ستاروں سے نکالوں دریا زور سے اپنی نگاہوں کے اٹھا لوں دریا کاٹ کے تیغ سے خیمے میں بہا لوں دریا سنگ سے، ریت سے، کہسار سے پانی نکلے مرے اک اِذن پہ سنسار سے پانی نکلے ساری دنیا میں ہے مشہور سخاوت میری دِل ہلاتی ہے لعینوں کا شجاعت میری آسماں لرزاں ہے سن سن کے خطابت میری خاک کر د...