منقبت امام حسین علیہ السلام

 حسینؑ جسکا سر تمہارے در پہ خم نہیں ہوا

حضورِ ربّ العالمیں وہ محترم نہیں ہوا


جسے نصیب ہو گیا غمِ حسینِؑ شاہِ دیں

پھر اُسکو اِس زمانہ میں کوئی بھی غم نہیں ہوا


ُاُسے کہاں نصیب ہے ہدایتِ خدائے حق

وہ جس پہ‌ حضرتِ حسینؑ کا کرم نہیں ہوا


اے شیر خوارِ کربلا تری عطش کا مرتبہ

قلم تو خشک ہو گیا مگر رقم نہیں ہوا


وہ بے وفا ہے وفا میں کہ رہا ہوں مان لو

کہ نصب باوفا کا اُس کے گھر علم نہیں ہوا


یزید پر تو خود تھی اُمّتِ رسولؐ متفق

سرِ حسینؑ یونہی دشت میں قلم نہیں ہوا


حسینیت کی وسعتوں میں جس نے خود کو کھو دیا

کبھی وہ حاصلِ زمانۂ عدم نہیں ہوا


اے مُنکرِ مقامِ کربلا تجھے خبر بھی ہے 

طواف کرکے بھی تو قابلِ حرم نہیں ہوا

عسکری عارفؔ

Comments

Popular posts from this blog

مسدس مولا عباس

منقبت مولا علی علیہ السلام

منقبت رسول اللہ ص اور امام جعفر صادق علیہ السلام