کہاں تلک فرسِ سوزِ انتظار چلے منقبت امام زمانہ

 کہاں تلک فرس سوزِ انتظار چلے

کہ اب تو آیئے غیبت کے پردہ دار چلے


عدو کے واسطے کب جادۂ فرار چلے

مثالِ برق تمہارا جو راہوار چلے


حنین و خیبر و صفین و بدر ہم دیکھیں

ستمگروں پہ تمہاری جو ذوالفقار چلے


ہو ختم روئے زمیں سے نظامِ جبر و ستم

ہر ایک سمت‌‌ امامت کا اقتدار چلے


تجھ ہی سے گردشِ لیل و نہار باقی ہے

زمامِ وقت پہ تیرا ہی اختیار چلے


سمندروں کا تلاطم خموش ہو جائے

بہ اذنِ ابروئے قوسین، کوہ سار چلے


رواں ہے اُن سے ہی عارفؔ یہ روزگارِ نفس

وگرنہ‌ دم بھی نہ ہستی کا کاروبار چلے

عسکری عارفؔ

Comments

Popular posts from this blog

مسدس مولا عباس

منقبت مولا علی علیہ السلام

منقبت رسول اللہ ص اور امام جعفر صادق علیہ السلام