بلوے میں بہن ہے بے چادر نوحہ
بلوے میں بہن ہے بے چادر روتا ہے سناں پہ شاہ کا سر بازار سے ہے زینب کا گزر روتا ہے سناں پہ شاہ کا سر بالوں سے کیے رخ کا پردہ، اغیار میں ہے بنتِ زہرا اے کاش کوئی دے دے چادر روتا ہے سناں پہ شاہ کا سر بلوے میں بہن ہے بے چادر روتا ہے سناں پہ شاہ کا سر باغی کی بہن کہتے ہیں لعیں، سیدانیوں پر ہنستے ہیں لعیں دیکھیں یہ سماں عابد کیوں کر روتا ہے سناں پہ۔۔۔۔ خوں بار ہیں آنکھیں عابد کی، بازار میں بے مقنع ہے پھوپھی پھوپھیوں سے ملائیں کیسے نظر روتا ہے سناں پہ۔۔۔۔ اکبر بھی نہیں عباس نہیں، پردے کے محافظ پاس نہیں ہر سمت سے آتے ہیں پتھر روتا ہے سناں پہ شاہ کا سر جکڑے ہیں رسن میں اہلحرم، اللہ رے یہ کیسا ہے ستم دو گام بھی چلنا ہے دوبھر روتا ہے سناں پہ شاہ کا سر کس طرح قدم آگے کو بڑھے، ہر سمت تماشائی ہیں کھڑے چلنے کی نہیں ہے راہ گزر روتا ہے سناں پہ شاہ کا سر دربار میں کیوں کر جائے بہن، احساس سے نہ مر جائے بہن ہائے یہ قیامت کا منظر روتا ہے سناں پہ شاہ کا سر کچھ دور پہ ہے دربار مگر، لگتا ہے کہ ہے میلوں کا سفر ہر سمت کھڑے ہیں بانی شر روتا ہے سناں پہ شاہ کا سر دربار میں آئے جب قیدی، تھے بارہ گلے اور اک رسی عارف...