آتی تھیں یاد جب بھی اسیری کی سختیاں
آتی تھیں یاد جب بھی اسیری کی سختیاں الشام کہ کے روتے تھے سجادِ ناتواں بعدِ حسین ڈھائے گیے ظلم بے شمار مل پایا ایک پل بھی نہ بیمار کو قرار تھیں بے کجواوہ اونٹوں پہ سیدانیاں سوار بے پردہ تھیں رسولِ خدا کی نواسیاں الشام کہ کے روتے تھے۔۔۔۔۔۔ بے پردہ اہلبیتِ محمدؐ کا کارواں زنجیر و طوق میں تھا گرفتار ناتواں ہاتو میں ہتکڑی تھی تو پیروں میں بیڑیاں سر تھے جھکائے شرم سے سجادِ خستہ جاں وہ شامیوں کی بھیڑ وہ ناموسِ مصطفٰی رسی میں ہاتھ جکڑے تھے، سب کا تھا سر کھلا رہ رہ کے گونجتی تھی منادی کی یہ صدا آکر تماشہ دیکھ لو سادات کا یہاں الشام کہ کے روتے تھے سجاد ناتواں چوراہے پر رکا تھا اسیروں کا کارواں بازار میں تھیں چارو طرف شیشہ بندیاں بالوں سے اپنے منہ کو چھپائے تھیں بیبیاں خنجر تھا قلبِ سید سجاد پر رواں پھٹتے تھے کان شور تھا ایسا ہجوم کا بازار شام میں تھا وہ ماحول دھوم کا مجمع تھا چار سمت فقط اہل شوم کا پہروں کھڑی تھیں فاطمہ زہرا کی بیٹیاں بازار سے تھا کچھ ہی قدم قصر شام کا چھتیس گھنٹے پھر بھی لگے وا مصیبتا ہر اک قدم ت...