مسدس مولا عباس
مسدّس مولا عباس کی شان میں--- لشکرِ شاہِ شہیداں کا علمدار ہوں میں کاروانِ شہِ مظلوم کا سردار ہوں میں ثانیء شیرِ خدا، دین کی دیوار ہوں میں جسکی تمثیل نہیں ہے وہ وفادار ہوں میں پیاس پانی کی بجھائے جو وہی پیاس ہوں میں میں تمنائے علی ہوں سخی عباس ہوں میں. اپنی پہچان زمانے کو عیاں کرتا ہوں. آج میں اپنی حقیقت بھی بیاں کرتا ہوں. میں تو باطل کے ارادوں کو دھواں کرتا ہوں. اپنی نظروں سے جدا جسم سے جاں کرتا ہوں کربلا میں نہیں تلوار چلائ میں نے. اپنی ہیبت سے ہی جیتی ہے ترائ میں نے. ہم اگر آئںگے میدان میں شیروں کی طرح. سر نظر آئںگے اڑتے ہوئے پتوں کی طرح. تن بکھر جائںگے اورآق کے ٹکڑوں کی طرح. خونِ رگ برسےگا طوفان کے دھاروں کی طرح. نہر ہوگی نہ کوئ جنگ کا منظر ہوگا. دشتِ کربل تو فقط خوں کا سمندر ہوگا. میں اگر چاہوں تو چلّو میں سما لوں دریا. یہ زمیں کیا ہے ستاروں سے نکالوں دریا. زور سے اپنی نگاہوں کے اٹھا لوں دریا. کاٹ کے تیغ سے خیمے میں بہا لوں دریا. تاقیامت در و دیوار سے پانی نکلے. مرے اک اِذن پے سنسار سے پانی نکلے. ساری دنیا میں ہے مشہور سخاوت میری. دِل ہلاتی ہے لعینوں کا ش...
Comments
Post a Comment