Posts

Showing posts from February, 2026

مسدس مولا عباس علمدارؑ

 مسدس باب الحوائج حضرت عباس علمدارؑ میں ہوں عباسؑ مرا باب حوائج ہے لقب خاندانِ بنی ھاشم کا قمر کہتے ہیں سب مرا حملہ ہے قیامت مرا انداز غضب  کانپتے ہیں مری ہیبت سے شجاعانِ عرب ناوکِ چشم یوں سینے میں اتر جاتا ہے مرا دشمن تو مجھے دیکھ کے مر جاتا ہے  اپنے بابا کی دعاؤں کا نتیجہ میں ہوں گود میں حیدرؑ و حسنینؑ کی کھیلا میں ہوں  مختصر ہے پسرِ فاطمہ زہراؐ میں ہوں پنجتن پاک کی آنکھوں کا اجالا میں ہوں حسنِ اخلاق و وفادارای کا مفہوم ہوں میں راحتِ جان و دلِ زینبؐ و کلثومؐ ہوں ختم ہے جس پہ وفا ایسی کہانی میں ہوں قلزمِ مہر و محبت کی روانی میں ہوں جزبۂ نصرت و طاعت کے‌ معانی میں ہوں مختصر ہے اسداللہ کا ثانی میں ہوں ضیغمِ شیرِ خدائے ازلی کہتے ہیں سورمہ مجھکو زمانے کے علیؑ کہتے ہیں اپنی تعداد پہ اِتراتے ہیں کیوں بانیِ شر شیر کا سامنا کرنے کو ہے درکار جگر ورنہ ہو جاتی ہے تعداد ہزاروں کی صِفر شیر کے مدِّ مقابل بھی ہوں روباہ اگر پاس آتے نہیں بس دور سے غرّاتے ہیں  دُم دبائے ہوئے جنگل کو چلے جاتے ہیں زندگانی ہے مری وقف برائے شبیرؑ مرے سینے میں ہے لبریز ولائے شبیرؑ خادمِ سیدِ ابرار، گد...

منقبت امام حسین علیہ السلام

 حسینؑ جسکا سر تمہارے در پہ خم نہیں ہوا حضورِ ربّ العالمیں وہ محترم نہیں ہوا جسے نصیب ہو گیا غمِ حسینِؑ شاہِ دیں پھر اُسکو اِس زمانہ میں کوئی بھی غم نہیں ہوا ُاُسے کہاں نصیب ہے ہدایتِ خدائے حق وہ جس پہ‌ حضرتِ حسینؑ کا کرم نہیں ہوا اے شیر خوارِ کربلا تری عطش کا مرتبہ قلم تو خشک ہو گیا مگر رقم نہیں ہوا وہ بے وفا ہے وفا میں کہ رہا ہوں مان لو کہ نصب باوفا کا اُس کے گھر علم نہیں ہوا یزید پر تو خود تھی اُمّتِ رسولؐ متفق سرِ حسینؑ یونہی دشت میں قلم نہیں ہوا حسینیت کی وسعتوں میں جس نے خود کو کھو دیا کبھی وہ حاصلِ زمانۂ عدم نہیں ہوا اے مُنکرِ مقامِ کربلا تجھے خبر بھی ہے  طواف کرکے بھی تو قابلِ حرم نہیں ہوا عسکری عارفؔ

منقبت امام زمانہ روئے زمیں سے ظلم و تشدد کو دور کر اے ھادی و امامِ زمانہ ظہور کر محسوس ہو رہی ہے ہواؤں میں اک گھٹن بادِ بہارِ عدل و صداقت وفور کر ہم بھی اسیرِ خواہشِ دیدار ہیں ترے آنکھیں ہماری جلوہ گہِ کوہِ طور کر پھر اقتدار، طالبِ بیعت ہے صبر سے دجّالیت کے نشّۂ غفلت کو چور کر بڑھتا ہی جا رہا ہے اندھیروں کا اقتدار کرکے ظہور چار طرف نور نور کر وہ جنکو مسکرائے زمانہ گزر گیا ممکن کچھ اُنکے واسطے وجہِ سرور کر عارفؔ امامِ عصر کے دیدار کے لیے اعمال اپنے لائقِ مولا ضرور کر عسکری عارفؔ

کہاں تلک فرسِ سوزِ انتظار چلے منقبت امام زمانہ

 کہاں تلک فرس سوزِ انتظار چلے کہ اب تو آیئے غیبت کے پردہ دار چلے عدو کے واسطے کب جادۂ فرار چلے مثالِ برق تمہارا جو راہوار چلے حنین و خیبر و صفین و بدر ہم دیکھیں ستمگروں پہ تمہاری جو ذوالفقار چلے ہو ختم روئے زمیں سے نظامِ جبر و ستم ہر ایک سمت‌‌ امامت کا اقتدار چلے تجھ ہی سے گردشِ لیل و نہار باقی ہے زمامِ وقت پہ تیرا ہی اختیار چلے سمندروں کا تلاطم خموش ہو جائے بہ اذنِ ابروئے قوسین، کوہ سار چلے رواں ہے اُن سے ہی عارفؔ یہ روزگارِ نفس وگرنہ‌ دم بھی نہ ہستی کا کاروبار چلے عسکری عارفؔ