شہ کو تقدیر ضعیفی میں کہاں لائی ہے نوحہ
شہ کو تقدیر ضعیفی میں کہاں لائی ہے
نوجواں بیٹے نے سینے پہ سناں کھائی ہے
کچھ نہیں دکھتا اندھیرا ہے نگاہوں میں فقط
ختم اب ہونے کو شبیرؑ کی بینائی ہے
کچھ نہیں دکھتا اندھیرا ہے نگاہوں میں فقط
ختم اب ہونے کو شبیرؑ کی بینائی ہے
جسکو پروان چڑھایا تھا پھوپی زینبؐ نے
اُسی اٹھارہ برس والے کو موت آئی ہے
جسکی شادی کا تھا ارمان تجھے اے صغریٰؐ
خون کی مہندی رچائے وہ ترا بھائی ہے
ہائے پیاسے کو کسی نے نہ پلایا پانی
منہ میں کانٹے ہیں پڑے، آنکھ بھی پتھرائی ہے
خونِ اکبرِؑ سے کیا بالوں کو لیلیٰ نے خضاب
بارہا لاشۂ فرزند پہ غش کھائی ہے
خاک پر بیٹھے ہیں شبیرؑ کمر پکڑے ہوئے
لاشِ اکبر ہے، بیابان ہے، تنہائی ہے
ناز تھا جس پہ حسین ابنِ علی کو عارفؔ
اُس جواں لعل کو جنگل کی فضا بھائی ہے
عسکری عارفؔ
Comments
Post a Comment