مرثیہ علی اکبرؑ

 جب سینہ پہ اکبرؑ نے سناں دشت میں کھائی

ہم شکلِ پیمبرؐ نے سناں دشت میں کھائی

شہؑ کے مہ انور نے سناں دشت میں کھائی

لیلیٰؑ کے گلِ تر نے سناں دشت میں کھائی

شہؑ کہتے تھے لو چھن گئی بینائی ہماری

اب مرنے کی نزدیک گھڑی آئی ہماری


دیتے تھے صدا شاہؑ کہاں ہو علی اکبرؑ

اک بار تو بابا کو صدا دو علی اکبرؑ

گھبراؤ نہ، کچھ رنج نہ کھاؤ علی اکبرؑ 

آتا ہے پدر، دم کو سنبھالو علی اکبرؑ

مقتل میں جواں لعل کا غم کھاتے تھے شبیرؑ

دو چار قدم چلتے تھے گر جاتے تھے شبیرؑ


پہنچے جو قریبِ پسرِ نوجواں سرورؑ

دیکھا کہ تڑپتا ہے پڑا خاک پہ اکبرؑ

بے ساختہ شبیرؑ نے زانو پہ رکھا سر

فرمانے لگے بیٹے سے پھر سبطِ پیمبرؐ

آیا ہے پدر غم نہ کرو اے مرے جانی

کچھ عرض کرو مجھ سے مرے یوسفِ ثانی


سُن کر یہ سخن شہ کے پکارے علی اکبرؑ 

سو جان سے بابا یہ پسر صدقہ ہو تم پر

کیا حال کہوں بابا کہ دل آتا ہے باہر

لگتا ہے کہ چلتی ہے چھری سینہ کے اندر

اِس واسطے تکلیف بہت ہوتی ہے بابا

برچھی مرے سینے میں کہیں ٹوٹی ہے بابا


ممکن ہو تو پھل برچھی کا سینہ سے نکالو 

پر مجھ سے ذرا دیر نگاہوں کو ہٹا لو

ہے سخت گھڑی بابا ذرا خود کو سنبھالو

اِس درد و اذیت سے مگر مجھکو بچا لو

برچھی جو جگر سے مرے ٹکراتی ہے بابا

میں سانس بھی لیتا ہوں تو موت آتی ہے بابا


پھر بیٹھ گیے گھٹنوں کے بل سید عالی

اک ہات زمیں پر رکھا اک ہاتھ میں برچھی

پھر یا علیؑ کہ کر کے سناں سینے سے کھینچی

اکبرؑ کا کلیجہ لیے برچھی نکل آئی

پردیس میں شبیرؑ سے قسمت نے دغا کی

ہاتھوں پہ تڑپتے ہوئے اکبرؑ نے قضا کی

عسکری عارفؔ


Comments

Popular posts from this blog

مسدس مولا عباس

منقبت مولا علی علیہ السلام

منقبت رسول اللہ ص اور امام جعفر صادق علیہ السلام