خراج عقیدت بحضور رہبر معظم شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رحمت اللہ علیہ

 خلوص و صبر و رضا کے پیکر

شہید رہبر سلام تم پر


تری شہادت سے قلبِ باطل دہل رہا ہے

ستم ندامت سے اپنے ہاتھوں کو مل رہا ہے 

یوں لگ رہا ہے نظامِ عالم بدل رہا ہے

غرورِ شمر و یزیدِ دوراں بھی جل رہا ہے

تو سرخ رو ہے شہید ہو کر سلام تم پر


بہت ہیں رہبر جہاں میں لیکن تو بے بدل تھا

نیاز و عشقِ خدا سے غافل نہ ایک پل تھا

خلافِ فرعونِ وقت آمادۂ جدل تھا

اطاعتِ مکتبِ حسینی ترا عمل تھا

حضورِ ظالم نہ خم کیا سر سلام تم پر


تری شہادت نے نفسِ انساں جھنجھوڑ ڈالا

ضمیرِ انسانیت کی غفلت کو توڑ ڈالا

بزورِ ایماں ستم کا پنجہ مروڑ ڈالا

فرآت وقتِ رواں کے دھارے کو موڑ ڈالا

درِ امامِ رضاؑ کے نوکر سلام تم پر


عدو یہ سمجھا تھا اب ہے برہم نظامِ ایراں

بنے گا عبرت برائے عالم نظامِ ایراں

مگر ہوا ہے مزید محکم نظامِ ایراں

تری شہادت سے ہے منظّم نظامِ ایراں

تو جینا سکھلا گیا ہے مر کر سلام تم پر


برائے خوشنودیِ الٰہی تری شہادت 

شکستگیِ نظامِ شاہی تری شہادت

عدو کے چہرے پہ اک سیاہی تری شہادت

بنے گی مظلوم کی گواہی تری شہادت 

بروزِ محشر حضورِ داور سلام تم پر


حسینیت کو فروغ دینا عمل تھا تیرا

خلافِ ظلم و ستم ارادہ اٹل تھا تیرا

وہی جلال و حشم ہے اب بھی جو کل تھا تیرا

سکونِ جاں بس وظیفۂ العجل تھا تیرا

اے نائبِ وارثِ پیمبرؐ سلام تم پر


روایتِ کربلا کو تجدید کر گیا تو

لہو میں اپنے شفق کی صورت نکھر گیا تو

مثالِ قاسمؑ میانِ مقتل بکھر گیا تو

حسین ابنِ علیؑ کے مقصد پہ مر گیا تو

اے عہدِ نو کے بنِ مظاہر سلام تم پر

عسکری عارفؔ

Comments

Popular posts from this blog

مسدس مولا عباس

منقبت مولا علی علیہ السلام

منقبت رسول اللہ ص اور امام جعفر صادق علیہ السلام