بے پردہ کھڑا قافلہ آلِ عبا ہے

 بے پردہ کھڑا قافلۂ آلِ عبا ہے

سر اپنا جھکائے ہوئے سجادؑ کھڑا ہے


بازار ہے، سادات ہیں اور مجمعِ اغیار

محمل نہ عماری نہ کسی سر پہ ردا ہے


جب زینبؑ و کلثومؑ کھلے سر نظر آئیں

سر نیزے سے غازیؑ کا کئی بار گرا ہے


اے کاش سروں پر کوئی رکھ دیتا ردائیں 

بازار میں سجادؑ یہی سوچ رہا ہے


بالوں میں سفیدی ہے، کمر جھک گئی غم سے

یوں بعدِ پدر عابدِ مضطرؑ پہ جفا ہے


وہ طوقِ گلو، ہتھکڑی، بیڑی وہ سلاسل

کس طرح بھلا شام کو بیمار گیا ہے


ہے زخمی گلا، زخمی کمر، پاؤں میں چھالے

رِستا ہے لہو زخموں سے، مرہم نہ دوا ہے


ہر گام قیامت ہے مگر اُف نہیں کرتے

ہونٹوں پہ فقط شکرِ خدا شکرِ خدا ہے


بھیا مجھے ظالم کے طمانچو سے بچا لو

رہ رہ کے سکینہؐ کے لبوں پر یہ صدا ہے


سر باپ کا نیزے پہ نظر آیا ہے جس دم

رو رو کے یتیمہ کا عجب حال ہوا ہے


بے پردہ ہیں بازاروں میں تطہیر کے وارث

معبود مرے حشر نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟


کیا آلِ محمدؐ کی اسیری کا بیاں ہو

عارفؔ سفرِ شام رقم کس نے کیا ہے

عسکری عارفؔ

Comments

Popular posts from this blog

مسدس مولا عباس

منقبت مولا علی علیہ السلام

منقبت رسول اللہ ص اور امام جعفر صادق علیہ السلام