نوحہ بہت تکلیف ہے بابا
ستم کے قید خانے میں سکینہؑ کی صدا گونجی
میرے رخسار ہیں زخمی، بہت تکلیف ہے باباؑ
نہ مر جائے تری بیٹی
بہت تکلیف ہے باباؑ
ستم کے قید خانے میں سکینہؑ کی صدا گونجی
بہت تکلیف ہے باباؑ
مِرے کانوں سے اب تک خون رِستا ہے، مرے باباؑ
بِنا مرہم ہوا ہے زخم اب ناسور کانوں کا
جفا یہ ہو گئی کیسی، بہت تکلیف ہے باباؑ
مِری آنکھوں سے اُٹھتا ہے دھواں تشنہ دہانی سے
کسی کی پیاس بجھتی ہے بھلا آنکھوں کے پانی سے
فقط میں اشک ہوں پیتی، بہت تکلیف ہے باباؑ
کمی سے خون کی دیکھو تو چہرہ زرد ہے باباؑ
ہیں سوکھے ہونٹ، بالوں میں سفر کی گرد ہے باباؑ
عجب تقدیر ہے میری، بہت تکلیف ہے باباؑ
شُتر کی پُشت سے ایسے مجھے باندھا گیا باباؑ
رسن جکڑی تھی یوں کس کر کہ میرا دم نکلتا تھا
رسن سے پُشت ہے زخمی، بہت تکلیف ہے باباؑ
بہت تاریک زنداں ہے، جہاں دن میں اندھیرا ہے
پتا کچھ بھی نہیں لگتا کہ شب ہے یا سویرا ہے
یہ وحشت اور یہ تنہائی، بہت تکلیف ہے باباؑ
پرائے دیس میں مجھ پر قیامت کے ستم ٹوٹے
ضعیفی آ گئی طِفلی میں وہ رنج و الم ٹوٹے
نہیں اب آس جینے کی بہت تکلیف ہے بابا
یتیمی کی ستائی ہوں، غم و اندوہ کی ماری
مری تقدیر میں کیا ہے سوائے گریہ و زاری
مری قسمت ہے غمخواری بہت تکلیف ہے بابا
حرم میں عارفؔ و عظمیؔ عجب اک حشر برپا تھا
اندھیرے قیدخانے میں سکینہؐ نے جو دم توڑا
یہ کہتی مر گئی بچی بہت تکلیف ہے بابا
Comments
Post a Comment