تھے قبرِ برادر پر زینب کے سخن بھیا نوحہ

تھے قبرِ برادر پر زینبؐ کے سخن بھیا
کس طرح وطن جائے بن تیرے بہن بھیا

مر کر بھی نہ جائے گا دل سے یہ قلق بھیا
پھٹتا ہے جگر غم‌ سے، دل ہوتا ہے شق بھیا
دو گز بھی نہ دے پائی میں تجھکو کفن بھیا

ہوتی جو ردا سر پر میں تجھکو اوڑھا دیتی
کچھ پاسِ امامت کو مٹنے‌ سے بچا لیتی
عریاں نہ پڑا ہوتا صحرا میں بدن بھیا

جس وقت ترا لاشہ عابدؑ کو نظر آیا
اندوہ کی شدت سے بیمار یوں گھبرایا
لگتا تھا کہ چھوڑے گی اب روح بدن بھیا

زنداں کے اندھیروں میں بچی کو قضا آئی
پایا جو تمہارا سر وہ تاب نہ لا پائی
دنیا سے ہوئی رخصت وہ پابندِ محن بھیا

رو رو کے بلاتی تھی عمو کو چچا کی جاں
کہتی تھی نکلتا ہے دم میرا پھوپی امّاں
جس وقت پڑی اُسکی گردن میں رسن بھیا

سجادؑ کی گردن میں تھا طوقِ گراں پُرخار
کس طرح گیا پیدل بازار سے وہ بیمارؐ
دروں کی اذیت سے تھا زخمی بدن بھیا

زہراؐ کی دلاری کے سر پر نہ بچی چادر
مر جانا تھا زینبؐ کو جب سر سے چھنی چادر
رب جانے کہ زندہ ہے کس طرح بہن بھیا

وہ سیکڑوں میلوں کا کیسا تھا سفر ہائے
آغوش سے ماؤں کی گر گر کے مَرے بچے
کچھ بس نہ چلا‌ ہم‌ تھے پابندِ رسن بھیا

عارفؔ ہو بیاں کیسے ہمشیر کا وہ ماتم
احساسِ مصائب سے بے ہوش ہوئی پیہم
کرتی ہوئی یہ نوحہ اے تشنہ دہن بھیا
عسکری عارفؔ

Comments

Popular posts from this blog

مسدس مولا عباسؑ

منقبت مولا علی علیہ السلام

منقبت رسول اللہ ص اور امام جعفر صادق علیہ السلام