نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ایمان مثلِ حضرتِ عمران چاہیے
لکھنے کو نعتؐ آپؐ کا عرفان چاہیے
الفاظ اُنکیؐ شان کے شایان چاہیے
مدّاحیِ رسولؐ کو قرآن جاہیے
حاصل ہو کچھ لغت کے علاوہ تو بات ہو
لفظوں کی کلمہ گوئی کو بھی جان چاہیے
دیں کو فروغ دیگی صدا سیرتِ نبیؐ
اس کے لیے نہ تیغ نہ پیکان چاہیے
ہم بھی اُنہیں کہیں گے صحابی پہ شرط ہے
کردار مثلِ بوزرؒ و سلمانؒ چاہیے
سونا ہے آج حیدرِؑ شب زندہ دار کو
حیدرؑ کو مصطفیٰؐ کا شبستان جاہیے
کیجے درِ نبیؐ سے بقیّہ کو بھی سلام
گر آپ کو نجات کا سامان جاہیے
بیٹی بیاہ دی ابو طالب کے لعل سے
احسان کے بدل کو بھی احسان چاہیے
تھے مطمئن یہ سوچ کے ہجرت کی شب علیؐ
آقاؐ کی زندگی کو مری جان چاہیے
اعلانِ جانشینیِ خاتمؐ کے واسطے
خّمِ غدیر، منبرِ پالان چاہیے
اسائشِ زمانہ بھی مطلوب ہے تجھے
اور تجھ کو راہِ عشق بھی آسان چاہیے
محشر کی تیز دھوپ سے بچنے کے واسطے
ہم کو نبیؐ کا سایۂ دامان جاہیے
یوں ہی نہیں اذاں میں ولایت کا تذکرہ
کچھ تو جوابِ طعنۂ ہذیان چاہیے
عارفؔ ثنائے رحمتِ عالم کے باب میں
Comments
Post a Comment