Posts

غزل

تازہ غزل محبتوں کا یوں اسنے صلہ دیا مجھکو حقیر کہ کے نظر سے گرا دیا مجھکو فریب و رنج و غم و درد و دشمنی کے سوا میں سوچتا ہوں کہ دنیا نے کیا دیا مجھکو تمام رات اندھیروں سے جنگ کی م...

منقبت جناب ابو طالب علیہ السلام

باسمہ سبحانہ تا ابد دیں پہ ہے احسان ابوطالب کا رتبہ کب سمجھا مسلمان ابوطالب کا جسکی رگ میں ہو رواں عشقِ امیہ کا لہو اُسکو ہوتا نہیں عرفان ابوطالب کا جنکے اجداد  بے ایمان رہے تھے برسوں انکو ملتا نہیں ایمان ابوطالب کا جب محمد کے نگہبان ابوطالب تھے تب تھا اللہ نگہبان ابوطالب کا دین و قرآں کی حفاظت کے لئے کربل میں سارا کنبہ ہوا قربان ابوطالب کا اِنکی آغوش کے پالے ہیں امام اور رسول رتبہ اس بات سے پہچان ابوطالب کا آلِ عمران ہے خود اِنکے فضائل کا بیاں تذکرہ کرتا ہے قرآن ابوطالب کا گلشنِ دیں پہ خزاں آئے نہ اِسکی خاطر ایک گلشن ہوا ویران ابوطالب کا دینِ اسلام جو مقبول ہوا دنیا میں در حقیقت ہے یہ فیضان ابوطالب کا کِسکو ملتی ہے بھلا ایسی فضیلت *عارف*؟ کبریا خود ہے ثناخوان ابوطالب کا سید محمد عسکری *عارف*

غزل

تازہ غزل قیدِ غفلت سے نکلنے میں بہت دیر لگی تجھکو اے دوست سمجھنے میں بہت دیر لگی بعد منزل پہ پہنچنے کے یہ معلوم ہوا ٹھوکریں کھا کے سنبھلنے میں بہت دیر لگی شب کو بارش بھی تماش...

غزل

تازہ غزل موت ہے زندگی، زندگی موت ہے ہر نفس موت ہے ہر گھڑی موت ہے میں اندھیروں میں کھو جاؤں ممکن نہیں ایک پروانے کی روشنی موت ہے اسلئے شاد رہتا ہوں ہر حال میں میرے دشمن کو میری ...

غزل

غزل سوئے جنگل چلا پیدل مچی دل میں مرے ہلچل ہیں راہوں میں فقط دلدل میرے پاؤں ہوئے گھائل نہیں ملتی رہِ مخمل کڑی ہے دھوپ نہ جاؤں جل میری آنکھیں ہوئیں بادل زمینِ دل ہوئی جل تھل ...

بقیع میں

باسمہ تعالٰی *بقیع میں* بہتا ہے حکمتوں کا سمندر بقیع میں بنتا ہے کل جہاں کا مقدر بقیع میں ہوگا قصاصِ آلِ پیمبر بقیع میں آئے گا جب امام کا لشکر بقیع میں سایہ نہیں ہے قبر پہ بنت ر...

جنت البقیع

باسمہ تعالٰی تعمیرِ بقیع اے خدا کیسی ہوئی ہے آج  تقدیرِ بقیع دھوپ میں بے مقنع و چادر ہے تطہیرِ بقیع اشکِ خوں روتے ہیں غیبت میں امام عصر بھی جب کبھی پیشِ نظر ہوتی ہے تصویرِ بق...

غزل

تازہ غزل سب واقعے نئے تھے پرانے لگے مجھے قصّے حقیقتوں کے فسانے لگے مجھے ملنے وہ آئے مجھ سے تو خاموش ہی رہے جانے لگا  جو میں تو بلانے لگے مجھے مکر و ریا کا درس تو ہر ایک سے ملا اخ...

ہیبت سلام

ہلتی ہے زمیں دیکھکے جرّار کی ہیبت اللہ رے یہ َشہ کے علمدار کی ہیبت ہے تخت پہ حاکم وہ مگر کانپ رہا ہے ہے دل میں ستمگر کے بیمار کی ہیبت مانا کہ گرفتارِ ستم شیر ہے لیکن زنجیر ابھی ...

جس گھر میں بپا ماتم سرور نہیں ہوتا

جس گھر میں بپا ماتمِ سرور نہیں ہوتا وہ گھر تو جہنم ہے وہ گھر گھر نہیں ہوتا سنکر غمِ شبّیر جو نہ اشک بہائے دنیا میں کوئی ایسا بھی پتّھر نہیں ہوتا یہ زینب و سجاد کی محنت کا اثر ہے ...