Posts

غزل

جی جی کے مری جاں مجھے مرنا ہے ابھی اور تنہا یہ سفر زیست کا کرنا ہے ابھی اور جذبات کی گیرائی میں ڈوبا ہی کہاں ہوں احساس کے دریا میں اترنا ہے ابھی اور بادل کو ابھی چیریں گی سورج ک...

منقبت

باسمہ تعالٰی وفا و عزم و تحمل کا باب ہے زینب حسینیت کی مکمل کتاب ہے زینب چلی ہے اوڑھ کے تطہیر کی ردا سر پہ دیارِ ظلم میں کب بے حجاب ہے زینب جلا کے رکھ دے جو ہر دور کی شہی کا غرور و...

غزل

شہرِ الفت کی کوئی رسم نبھاتے جاتے لاکھ روٹھا تھا سہی مجھکو مناتے جاتے کاش ہو جائے کسی پل ترا دیدار سو ہم راہ تکتے ہیں تری راہوں سے آتے جاتے خانہء دل کو دھواں کرکے گھٹن چھوڑ گئ...

سلام

باسمہ سبحانہ کیا بتاےگا کوئی کیا مرتبہ زینب کا ہے ساری دنیا ہے خدا کی اور خدا زینب کا ہے ڈوبتی ایمان کی کشتی کو بعدِ کربلا ریت کے دریا میں بس اک آسرا زینب کا ہے بعدِ قتلِ شاہ د...

غزل

کٹھن راستوں سے گزر دھیرے دھیرے مٹا دل سے صحرا کا ڈر دھیرے دھیرے رہِ خار پر چھوڑ کر مجھکو تنہا چلے سب مرے ہمسفر دھیرے دھیرے ہر اک سانس ہے اک قدم سوئے منزل کٹے زیست کا یوں سفر دھ...

غزل

گماں کا  تیر  کمانِ  یقیں  سے   نکلا  ہے پھر ایک سانپ مِری آستیں سے نکلا  ہے زمانہ سمجھا تھا مجھکو زمینِ شور مگر ہرا  درخت مِری  سر  زمیں  سے نکلا  ہے غبارِ  بیعتِ  فاسق  جہ...

غزل

ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻏﻢ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮨﮯ ﺳﺘﻢ ﭘﺮﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺳﻮﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﮑﺮ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮑﻮ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺁﺝ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣِﺮﮮ ﺍﻟﻠﮧ ...

غزل

تازہ غزل آدمی دنیا  و  مال و زر  کا پرستار آدمی رہتا ہے مشکلوں میں گرفتار آدمی جسکو بھی دیکھئے ہے وہ مکار آدمی کیا مٹ چکے ہیں صاحبِ کردار آدمی ہوتی نہیں ہے جسکو میسر غزائے رو...

غزل

غزل کوئی ہمدم نہ کوئی یار نہ شیدائی ہے حوصلہ دینے کو باقی مری تنہائی ہے اِن دنوں گھر سے نکلتے ہوئے گھبراتا ہوں ملک میں میرے تنفر کی گھٹا چھائی ہے وہ سرِ عام مجھے جھوٹا بتاتا ...

نعت

باسمہ تعالٰی نعت امیر المومنیں کے قائد و سردار کیا ہوں گے *علی جنکے غلاموں میں ہیں وہ سرکار کیا ہوں گے* کمالِ حسنِ یوسف پر زلیخا مر مٹی تھی تو جمالِ فخرِ یوسف پر ترے آثار کیا ہ...