Posts

منقبت

یا علی مدد حقانیت   کا  طرزِ بیاں  یا علی مدد ہے مومنوں کا وردِ زباں یا علی مدد کٹتی ہے گر زبان تو کٹ جائے غم نہیں دیتا  رہے  گا  قلب  اذاں  یا علی  مدد بھاگے جو معرکوں میں محمد ...

منقبت مولا علی علیہ السلام

گزشتہ برس کہا گیا ایک طرحی کلام ولی آئے وصی آئے ستونِ بندگی آئے مبارک ہو مبارک ہو زمانے میں علی آئے مہک اٹھا چمن اسلام کا حیدر کی خوشبو سے امامت کے گلستاں میں علی بنکر کلی آئے...

منقبت مولا علی علیہ السلام

دو برس پہلے کہی گئی ایک منقبت کیوں پوچھتے ہو ہم سے کہ کیا کیا علی سے ہے دنیا علی سے ہے یہ زمانہ علی سے ہے بن اسکے دین حق کا تصور فضول ہے دونوں جہاں میں دین کا چرچا علی سے ہے دوزخ ک...

سلام

باسمہ تعالٰی نوحہ تازیانوں کی ہے بوچھار خدا خیر کرے مر نہ جائے کہیں بیمار خدا خیر کرے ایک بیمار جو قیدی ہے برہنہ پا بھی اور اُس پر رہِ پر خار خدا خیر کرے پھٹ نہ جائے کہیں غیرت ...

نوحہ

لہو لہو ہے زمانہ علی شہید ہوئے یتیم ہو گیا کوفہ علی شہید ہوئے تمام ریشِ مبارک لہو میں ڈوب گئی لہو میں تر ہے سراپا علی شہید ہوئے زمین ہلتی ہے اور آسماں لرزتا ہے ہے ایک حشر سا بر...

نوحہ

نوحہ جب  تیغِ  دغا سر پہ ستمگر نے چلائی سجدے  میں  تڑپنے  لگا ضرغامِ الہی رنگین ہوئی خوں میں قبا شیرِ خدا کی ہے خون  میں  اسلام  کی تصویر نہائی جو فکر میں مسکینوں کی سویا نہ ک...

مسدس مولا عباس

عباس قلبِ حضرتِ شبیر کا قرار عباس جس کے دم سے وفاؤں کا ہے وقار جس نے کیا قبائے تشدّد کو تار تار کاٹے گلوئے ظلم کو جسکی نظر کی دھار عباس زورِ دستِ خدا کا کمال ہے عباس اس جہاں میں علی کی مثال ہے عباس    کائناتِ      شجاعت      کا      احتشام تھرائے   جسکا    نام    ہی    سنکر   امیرِ   شام رکھتا ہے اپنے  ہاتھوں میں  جو  موت کی لگام بخشے  جو  زندگی کے  سفینہ  کو   بھی  دوام ہوکر  نجوم  و  شمش  و قمر   خاک   گر  پڑیں رکھ دے قدم  زمیں  پہ  تو   افلاک   گر   پڑیں عباس تشنگی  کے  سمندر  کا نام ہے عباس  غیرتوں  کے  مقدر  کا نام ہے عباس ہی حسین کے لشکر کا نام ہے عباس  تو وفاؤں  کے داور کا نام ہے دشتِ عدم  میں  مرکزِ کلِّ حیات ہے عباس ک...

Nazm

ताज़ा नज़्म ये ज़मीं है राम  की  गौतम  विवेकानंद  की ज़ेब कब देते हैं इसको नफ़रतो फ़ित्नागरी। अम्नो तहज़ीबो सक़ाफ़त का चमन हिन्दोस्तां मरकज़े  इन्सानियत अपना  वतन हिन...

منقبت

کھلے گی حضرتِ  عباس کی  ہیبت زمانے میں نکل کر آئیں گے جب صاحبِ غیبت زمانے میں پھر انکے فیض سے لاغر توانا ہوکے اٹھیں گے مگر مجروح ہوگی ظلم کی حالت زمانے میں بہت میٹھا ثمر ہوگا ...

منقبت

باسمہ سبحانہ ح جاب غیبت سے جبکہ ظاہر ہمارا قائم امام ہوگا جفا و ظلم ستم کا قصہ جہاں سے اُس دن تمام ہوگا نہ  ظلم  ہوگا نہ  جبر  ہوگا  نہ  بربریت  نظام ہوگا شعور روئے زمین پر بس ...