منقبت مولا علی علیہ السلام

دو برس پہلے کہی گئی ایک منقبت

کیوں پوچھتے ہو ہم سے کہ کیا کیا علی سے ہے
دنیا علی سے ہے یہ زمانہ علی سے ہے

بن اسکے دین حق کا تصور فضول ہے
دونوں جہاں میں دین کا چرچا علی سے ہے

دوزخ کی آگ اُسکے مقدر میں ہے لکھی
جو شخص کائنات میں جلتا علی سے

حبِّ علی بغیر دعا میں اثر کہاں
اللہ کی رضا کا وسیلہ علی سے ہے

ہر شے پہ مرتضٰی کی حکومت ہے دوستو
مغرب سے آفتاب بھی پلٹا علی سے ہے

قبضہ ہے اِسکی زات کا موت و حیات پر
مردا تھا جو علی سے، وہ زندہ علی سے ہے

اپنوں کی بات چھوڑ دے، غیروں کی بات کر
دشمن بھی مشکلوں میں سنبھلتا علی سے ہے

مولائے کائنات کی عظمت نہ ہم سے پوچھ
*کعبہ علی سے عرش معلی علی سے ہے*

عشقِ علی میں ڈوب کے خوشیاں منایئے
ماہِ رجب کی آج یہ تیرہ علی سے ہے
عسکری عارف

Comments

Popular posts from this blog

مسدس مولا عباس

منقبت رسول اللہ ص اور امام جعفر صادق علیہ السلام