Posts

Showing posts from July, 2024

مرثیہ درحال اسیری اہلحرم

مرثیہ درحال اسیریِ اہلحرم بازار شام اے  مومنو  رقم  ہے  مصائب  وہ  پُر  الم جس وقت  آئے  شام  کے  بازار میں حرم قیدی،  غریب  و ناتواں  پابندِ  رنج و غم بالوں سے اپنے منہ کو چھپائے  بچشمِ نم مجمع تھا شامیوں کا عجب اہتمام تھا خاموش سر کو اپنے جھکائے امامؑ تھا چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھے تماشبین بدکار  و  بدخصال و بد  اطوار  وہ  لعین اہل حرم کھڑے تھے  جھکائے ہوئے جبین ہنستے تھے دیکھ دیکھ کے اُنکو منافقین کچھ  بھی  نہ  احترام    کیا  آلِ  نور کا صدقہ اچھالتے  تھے حرمؑ  پر کھجور کا مجمع تھا اس قدر کہ نہ چلنے کی راہ تھی زین العباؑ کی  شرم  سے حالت تباہ تھی عابدؑ کے واسطے یہ زمیں قتل گاہ تھی نیزوں پہ سر بریدہ حسینی سپاہ تھی اِس غم سے بچ نکلنے کا چارہ کوئی نہ تھا بیمار و بے وطن کا سہارا کوئی نہ تھا زینبؐ کے سر پہ جب گئی شبیرؑ کی نظر رونے لگا  سناں  پہ سرِ  شاہِؑ  بحر  و بر آئی صدا حسینؑ کی زینبؐ  تو...