نوحہ ہونٹوں پہ دمِ آخر عباس کے نوحہ تھا
ہونٹوں پہ دمِ آخر عباسؑ کے نوحہ تھا
آقا! میرے لاشے کو خیمے میں نہ لے جانا
معصوم سکینہؑ سے وعدہ نہ ہوا پورا
آقا! میرے لاشے کو خیمے میں نہ لے جانا
کوشش تو بہت کی پر پہنچا نہ سکا پانی
اک تیر سے سب میرا ارمان ہوا پانی
افسوس! نہ بچوں کی میں پیاس بجھا پایا
تقدیر نے کیسا دن پردیس میں دکھلایا
زہراؑ کا بھرا کنبہ پیاسا ہے لبِ دریا
کچھ مجھ سے نہ ہو پایا، عباسؑ رہا زندہ
بے کار ہے اب جینا، مقصد نہ ہوا پورا
سہ روز کے پیاسوں کو پانی نہ پلا پایا
شرمندہ بہت ہوں میں، بچوں سے یہی کہنا
پائے گی خبر جس دم عمو کو قضا آئی
سوکھے ہوئے کوزے کو توڑے گی مری بچی
برداشت نہیں ہوگا اس سے یہ مرا صدمہ
مِری پیاری سکینہؑ جو گودی میں مری کھیلی
یہ آخری خواہش بھی کر پایا نہ میں پوری
دل سے یہ قلق میرے مر کر بھی نہ جائے گا
میں آپ کی نصرت کو آیا تھا مدینے سے
اب حال ہوا ایسا، قاصر ہوا جینے سے
پردیس میں اب چھوڑے جاتا ہوں تمہیں تنہا
مچھلی سا تڑپتا ہے جھولے میں علی اصغرؑ
یہ دیکھ کے چلتا ہے خنجر سا مرے دل پر
اے کاش کہ مشکیزہ خیمے میں پہنچ پاتا
عباسؑ کی غربت کا کیسے ہو بیاں، عارفؔ
کس دل سے لکھوں نوحہ، ہے فکر دھواں، عارفؔ
ہوتی ہیں لہو آنکھیں لکھ کر کے یہی جملہ
آقا! میرے لاشے کو خیمے میں نہ لے جانا
عسکری عارفؔ
Comments
Post a Comment