نوحہ روکے کہتی تھی ماں علی اکبرؑ
ہو گئے قتل جب علی اکبرؑ
اُمِّ لیلیٰ پچھاڑیں کھاتی تھی
نیند آتی نہیں تھی راتوں کو
یادِ اکبرؑ بہت رلاتی تھی
گزرے منظر بہت رلاتے تھے
اشک آنکھوں سے گرتے جاتے تھے
نوحہ رہتا تھا ہر گھڑی لب پر
اے میرے نوجواں علی اکبرؑ
رو کے کہتی تھی ماں، علی اکبرؑ
اے میرے نوجوان علی اکبرؑ
مل گئے سارے خواب پانی میں
موت آئی تجھے جوانی میں
تو نے کھائی سناں، علی اکبرؑ
مجھ کو درد و اَلَم نے گھیرا ہے
میری آنکھوں میں بس اندھیرا ہے
ہے نظر میں دھواں، علی اکبرؑ
لُٹ گیا دشت میں چمن میرا
مر گیا ہائے گُل بدن میرا
کیسی آئی خزاں، علی اکبرؑ
تیرے مرنے کے بعد کیا جینا
زہر اشکوں کا ہے مجھے پینا
جی نہ پائے گی ماں، علی اکبرؑ
داغ کیسے تیرا اٹھاؤں میں
اس اذیت سے مر نہ جاؤں میں
سخت ہے امتحاں، علی اکبرؑ
کیسے منظر وہ شاہؑ نے دیکھا
ایڑیاں خاک پر رگڑتا تھا
جب تو کھا کے سناں، علی اکبرؑ
دن جب آیا تمہاری شادی کا
ہائے غربت میں تم کو آئی قضا
اب ہے رونے کو ماں، علی اکبرؑ
تو نہیں ہے تو جان جاتی ہے
یاد تیری بہت ستاتی ہے
چین پاؤں کہاں، علی اکبرؑ
دشت میں کیا نصیب پھوٹ گیا
تو جوانی میں مجھ سے چھوٹ گیا
ہر نفس ہے گراں، علی اکبرؑ
جب جوانوں کو عید پر دیکھا
غم سے عارفؔ تڑپ گئی لیلیٰ
یاد آیا جواں علی اکبرؑ
عسکری عارفؔ
Comments
Post a Comment