یاد کرکے شام کا منظر لہو روتے رہے
یاد کرکے شام کا منظر لہو روتے رہے
عابدؑ ہائے شام کہ کہ کر لہو روتے رہے
غربتِ عابدؑ پہ دشتِ کربلا سے شام تک
طوق و بیڑی، ہتکڑی، لنگر لہو روتے رہے
دیکھ کر اہلِ حرم کو مجمعِ اغیار میں
حضرتِ شبیر نیزے پر لہو روتے رہے
شمر نے کھینچے جو بے رحمی سے کانوں سے گُہر
دخترِ شبیرؑ کے گوہر لہو روتے رہے
شاق تھی دل پر حرم کی بے ردائی اس قدر
زندگی بھر عابدؑ مضطر لہو روتے رہے
اصغرِ بے شیر کی تشنہ دہانی دیکھ کر
خلد میں خود ساقیِ کوثر لہو روتے رہے
جب نہ اٹھ پائی علی اکبرؑ کی میت دشت میں
سوئے دریا دیکھ کے سرورؑ لہو روتے رہے
لوٹ لو زینبؐ کی چادر جس گھڑی بولا شقی
زیرِ خنجر سبطِ پیغمبرؐ لہو روتے رہے
کُند خنجر سے گلا کاٹا گیا شبیرؑ کا
واحسینا کہ کے پیغمبرؐ لہو روتے رہے
چہرا بالوں سے چھپائے تھیں کھڑی سیدانیاں
عابدِ مضطر جھکائے سر لہو روتے رہے
ہائے رے مظلومیِ اہلِحرم بعدِ حسینؑ
آدمی کیا پھوٹ کے پتھر لہو روتے رہے
عارفؔ و نادرؔ ہوئی جب غربتِ عابد بیاں
پیٹ کے سر آخری رہبر لہو روتے رہے
عسکری عارفؔ
Comments
Post a Comment