طرحی کلام حسین کہتے تھے مقتل میں میری جاں قاسمؑ
حسینؑ کہتے تھے مقتل میں میری جاں قاسمؑ
زمیں پہ بکھرے پڑے ہو کہاں کہاں قاسمؑ
عبا میں کیسے اٹھاؤں تمہارے ٹکڑوں کو
بہت ہی سخت ہے مجھ پر یہ امتحاں قاسمؑ
تمہارے لاش کے ٹکڑوں کو دیکھ کر بیٹا
بصد ملال نہ مر جائے تیری ماں قاسمؑ
مسل دیا گیا گلزارِ مجتبیٰ کا پھول
اُجڑ کے رہ گیا فروا کا گُلستاں قاسمؑ
جگر کے ٹکڑے بہتر ہوئے تھے بھائی کے
بکھر گیا ہے تو گھوڑوں کے درمیاں قاسمؑ
تمہاری لاش ہوئی کربلا میں یوں پامال
تمہارے غم میں یہ روتا ہے آسماں قاسمؑ
تمہارا سر جو رکھا ہوگا برسرِ نیزا
نہ دیکھا جائے گا مادر سے وہ سماں قاسمؑ
تو ہم شبیہِ تھا بھیا حسنؑ کی اے بیٹا
مٹا دیا گیا رن میں ترا نشاں قاسمؑ
تو زندگی میں ہی روندا گیا ہے گھوڑوں سے
یہ سوچ کر ہی نکلتی ہے میری جاں قاسمؑ
الم سے عارفؔ و نادرؔ کا دل ہوا ٹکڑے
بیاں ہو کیسے تری غم کی داستاں قاسمؑ
عسکری عارفؔ
Comments
Post a Comment