نوحہ چہلم بپا ہے آج حسینی سپاہ کا

نوحہ درحال چہلم شہدائے کربلا

ہر سمت درد و سوز کا منظر ہے آشکار
چہلم بپا ہے آج حسینی سپاہ کا
دل غم سے پاش پاش ہے، آنکھیں ہیں اشک بار
چہلم بپا ہے آج حسینی سپاہ کا

سہ روز و شب جنہیں نہ ملا ایک بوند آب
تشنہ لبی سے سب کے جگر ہو گئے کباب
پیاسے شہید ہو گئے سرور کے جاں نثار

وہ جن کے ریگِ گرم پہ لاشے تھے بے کفن
بکھرے پڑے تھے خاک پہ جو نازنیں بدن
جسموں کو جن کے ڈھانپ گیا دشت کا غبار

زینبؑ کی زندگی کے سہارے گزر گئے
ماموں پہ اپنی جانوں کو قربان کر گئے
روئی نہ جن کے لاشوں پہ زینبؑ جگر فگار

گھوڑوں سے تیرہ سال کا بچہ کچل گیا
ماں کی سب آرزو کا جنازہ نکل گیا
ٹکڑوں میں بٹ کے رہ گیا شبرؑ کا گُل عذار

دریا پہ جب دلیر کے بازو ہوئے قلم
مشکِ سکینہؑ چھد گئی، ٹھنڈا ہوا عَلَم
مولا کمر کو تھام کے روتے تھے زار زار

خیمے میں جس کی لاش نہ مقتل سے آ سکی
بچوں نے کوزے توڑ دیے جب خبر ملی
شانے کٹا کے مر گئے عباسؑ نامدار

اٹھارہ سال والا وہ کڑیل جواں پسر
برچھی لگی جو سینے پہ، ٹکڑے ہوا جگر
مرنے سے جس کے لُٹ گیا شبیرؑ کا قرار

مرنے سے جس کے باپ کی بینائی کھو گئی
لیلیٰ پسر کی لاش پہ بے ہوش ہو گئی
کرتی رہی وطن میں بہن جس کا انتظار

جھولے میں مثلِ ماہیِ بے آب تھا صغیر
پانی کے بدلے اُس کو لگا حرملہ کا تیر
گردن سے بے زبان کے پھوٹی لہو کی دھار

پرسہ دو فاطمہؑ کا حسینِؑ غریب کا
وہ جس کا بارہ ضربوں میں کاٹا گیا گلا
ملبوس جس کا لوٹ لیے تھے ستم شعار

حرؑ و حبیبؑ و جونؑ و سعیدؑ و زہیرؑ قین
نافعؑ، بریرؑ و وہبؑ، وہ سب ناصرِ حسینؑ
تھے بے مثال سارے ہی اصحابِ ذی وقار

رو لو غمِ حسینؑ میں، اب غم ہے آخری
چہلم تمام ہوتا ہے، ماتم ہے آخری
عارفؔ، نہیں کسی کی بھی سانسوں کا اعتبار
عسکری عارفؔ

Comments

Popular posts from this blog

مسدس مولا عباسؑ

منقبت مولا علی علیہ السلام

منقبت رسول اللہ ص اور امام جعفر صادق علیہ السلام