مرثیہ درحال واپسی اہلِ حرم
چھوٹ کر قیدِ مصیبت سے حرم آئے ہیں
نوحہ کرتے ہوئے بادیدۂ نم آئے ہیں
کرکے تاریخ اسیری کی رقم آئے ہیں
کشتۂ دہرِ جفا، کشتۂ غم آئے ہیں
سب پہ طاری وہی کیفیتِ زندانی ہے
صاف چہروں سے عیاں غم کی فراوانی ہے
مضطرب حال، اسیرانِ بلا آئے ہیں
سوگوارانِ شہیدانِ جفا آئے ہیں
لُٹ کے پردیس سے خاصانِ خدا آتے ہیں
غل مدینہ میں ہے کہ آلِ عبا آئے ہیں
گزرے ایام کے احساس سے تھراتے ہیں
اشک بے ساختہ آنکھوں سے گِرے جاتے ہیں
مقصدِ حضرتِ شبیرؑ بچا لائے ہیں
حُرمتِ چادرِ تطہیر بچا لائے ہیں
دین کی دائمی تصویر بچا لائے ہیں
یعنی اسلام کی طوقیر بچا لائے ہیں
شام میں لاشۂ بیعت کو کچلنے والے
جیت کر آئے رہِ خار پہ چلنے والے
حادثے ایسے ہوئے جنکا ازالہ ہی نہیں
ضبط کیسے ہو کوئی چاہنے والا ہی نہیں
جس پہ نازاں تھے وہی گیسوؤں والا ہی نہیں
گھر میں کیا جائیں کہ اب گھر کا اُجالا ہی نہیں
کھا کے پیکان و سناں خاک کا پیوند ہوئے
جن سے آباد تھا گھر، قتل وہ فرزند ہوئے
گھر سے نکلے تھے تو وہ نورِ نظر سامنے تھے
لخت دل، لخت جگر وقتِ سفر سامنے تھے
خانۂ ہاشمی کے شمس و قمر سامنے تھے
چمنِ بنتِ نبیؐ کے گُلِ تر سامنے تھے
تپتی ریتی پہ ہر اک غنچہ دہن سوکھ گیا
بندشِ آب سے زہراؐ کا چمن سوکھ گیا
ہائے کیا شان تھی جب گھر سے سفر کو تھے چلے
تھے ضمانت میں علمدار کے پرچم کے تلے
ہنستے، کلکاریاں بھرتے ہوئے گودی کے پلے
چمنِ فاطمہؐ کے پھول تھے سب پھولے پھلے
روزِ عاشور مگر ظلم عجب تر دیکھا
رن میں بکھرا ہوا شبیرؑ کا لشکر دیکھا
چاک داماں ہیں حرم چاک گریباں ہیں حرم
سوختہ جاں ہیں حرم، غم سے ہراساں ہیں حرم
ایک مدت سے فقط کرب کا عنواں ہیں حرم
مضمحل، غم زدہ و زار و پریشاں ہیں حرم
دور پردیس میں وہ ظلم و ستم ٹوٹ گیے
دم بدم کرتے ہیں فریاد کہ ہم ٹوٹ گیے
بنِ حنفیہ نے عابدؑ کو لگایا جو گلے
شدتِ درد سے سجادِؑ حزیں چیخ اٹھے
روکے عابدؑ یہ چچا جان سے فرمانے لگے
طوق کے زخم نہیں ہیں مری گردن کے بھرے
کھُل نہ جائیں کہیں گردن کے یہ گھاؤ عمو
مجھکو آہستہ گلے اپنے لگاؤ عمو
راہِ تشہیر کی مجبور مسافر زینبؐ
آ گئی چھوٹ کے زندان سے آخر زینبؐ
جس گھڑی قبرِ نبیؐ پر ہوئی حاضر زینبؐ
ہائے نانا کہا، تربت پہ گئی گِر زینبؐ
بولی امت نے دیا اجرِ رسالت نانا
روند ڈالی گئی مقتل میں امامت نانا
جس گھڑی قبر پہ شبیرؐ کا عمّامہ رکھا
مرقدِ حضرتِ سرکارِ دو عالم لرزا
قبرِ احمدؐ سے برابر یہی آتی تھی صدا
مجھکو معلوم ہے جو تم پہ ہوئی جور و جفا
کب فقط دشت میں سرورؑ کا گلا کاٹا گیا
کُند خنجر سے پیمبرؐ کا گلا کاٹا گیا
ختم کر مرثیہ عارفؔ کہ نہیں دل کو قرار
دُکھ سہے آلِ نبیؐ نے جو نہیں اُنکا شمار
یوں لُٹا عالمِ غربت میں نبیؐ کا گُلزار
گُلشنِ احمدِ مُرسل میں نہ پھر آئی بہار
قیدِ زنداں سے رہا ہوکے تو آئے سادات
قَفَسِ غم سے مگر چھوٹ نہ پائے سادات
عسکری عارفؔ
Comments
Post a Comment