مرثیہ درحال امام حسن عسکری علیہ السلام
لفظوں کو میرے معنیِ ممتاز کر عطا
مدّاحیِ امامؑ کا اعزاز کر عطا
مالک مِرے سخن کو وہ انداز کر عطا
انعام عسکریؑ و نقیؑ و جوادؑ دیں
اشعار سُن کے ہادیِ دوراں بھی داد دیں
یا رب عطا ہو بخششِ ادراک و آگہی
لکھنا ہے مجھ کو مدحتِ ابنِ علی نقیؑ
ھادی، ذکی و صامت و عابد، ولی، سخی
عادل، کریم، زاہد و دانا و متّقی
فیضِ کرم سے اِن کے تہی دست، شاہ ہے
سامرّا اِنکے عزّ و شرف کا گواہ ہے
نازاں خدا ہے جس پہ وہ عصمت ہوئی نصیب
تطہیرِ انّما کی طہارت ہوئی نصیب
حسنینؑ و مرتضیٰؑ کی وراثت ہوئی نصیب
بائیسویں برس میں امامت ہوئی نصیب
چرچہ ہے اِن کے علم کا کُل کائنات میں
پنہاں ہیں کُل صفاتِ نبیؐ اِنکی ذات میں
راہِ خدا پہ رہتا ہے ثابت قدم امام
وقتِ جدال کھینچے ہے تیغِ دو دم امام
کاغز پہ مثلِ تیغ چلائے قلم امام
کرتا نہیں قبول نظامِ ستم امام
کرتا ہے ختم صبر سے یوں اقتدار کو
دیتا ہے مات حلق سے خنجر کی دھار کو
عباسیوں کے ظلم اُمیہ سے تھے سوا
جعفرؑ ہوں یا ہوں موسیؑ کاظم ہوں یا رضاؑ
غربت میں کوئی اور کوئی زنداں میں مر گیا
پچّیس سال میں ہی تقیؑ کر گئے قضا
بعدِ پدر نقیؑ بھی ہوئے زہر سے شہید
اور عسکریؑ کے قتل پہ در پے ہوئے پلید
تا زندگی حصارِ ستم میں گھرے رہے
ہر ایک آن جبر کے پہرے لگے رہے
پھر بھی خلافِ شورشِ باطل کھڑے رہے
ہر اک ستم پہ صبر مسلسل کیے رہے
جز بارگاہِ حق نہ کہیں سر کو خم کیا
مظلومیِ حسینؑ پہ آنکھوں کو نم کیا
ماتم جہاں میں آج حسن عسکریؑ کا ہے
دنیا سے کوچ نورِ نگاہِ نقیؑ کا ہے
اے مومنو یہ روز عجب بے کسی کا ہے
یہ وقت نوحہ، مرثیہ، نالہ کشی کا ہے
کیا پوچھیے کہ سوگ یہ کتنا عظیم ہے
دنیا میں آج امامِ زمانہ یتیم ہے
کرب و بلا و درد کا مفہوم عسکریؑ
آلِ عبا کے تیرہویں معصوم عسکریؑ
دنیائے اقتدار کے مظلوم عسکریؑ
سمِّ جفا سے ہو گیے مسموم عسکریؑ
زندان کی صعوبتیں برداشت کر گئے
زہرِ دغا سے عین جوانی میں مر گئے
پرسہ قبول کیجیے یا صاحب الزماں
سر سے تمہارے چھن گیا والد کا سائباں
اِس غم میں مبتلا ہیں زمیں اور آسماں
ہیں سوگوار پنجتنِ پاک بھی یہاں
ایامِ غم بڑھانے کو آئے ہیں ماتمی
چُپ تعزیہ اٹھانے کو آئے ہیں ماتمی
عارفؔ دعا ہے بارگہِ ذوالجلال میں
ہو داخلہ حیات کا پھر اگلے سال میں
ہو بہتری تمام محّبوں کے حال میں
ہوں مبتلا نہ شاہؑ کے عاشق ملال میں
کچھ واسطہ رہے نہ غمِ کائنات سے
اک پل غمِ حسینؑ نہ چھوٹے حیات سے
Comments
Post a Comment