نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
محبوبِ خدا سیدِ والا ہیں محمدؐ
عالی ہیں، اولو العزم ہیں، اعلیٰ ہیں محمدؐ
تخلیقِ دو عالم کا حوالہ ہیں محمدؐ
توصیف سے تعریف سے بالا ہیں محمدؐ
یہ جلوۂ دنیائے طرب اُن کے سبب ہے
جو کچھ بھی ہے دارین میں سب اُن کے سبب ہے
سجّاد و سخی، احمد و محمود محمدؐ
صدّیق و امیں، شاہد و مشہود محمدؐ
محبوب و محِب، مقصد و مقصود محمدؐ
شہکارِ خدا، غائب و موجود محمدؐ
وہ بادشہِ مملکتِ لوح و قلم ہیں
الفاظ مرے مدحتِ سرکارؐ میں کم ہیں
افلاک، زمیں، انجم و خورشید یہ مہتاب
یہ کاہکشاں اور یہ کواکب کی تب و تاب
وا جسکے تصدق ہوئے رحمت کے سبھی باب
سیکھے ہے بشر جس کے سبب زیست کے آداب
ناپاک زباں، جسکی ثنا بے ادبی ہے
وہ ختمِ رُسَل، ہاشمی و مُطّلبی ہے
یہ دشت یہ گلزار یہ کہسار نہ ہوتے
تہذیب و تمدّن کے یہ اطوار نہ ہوتے
یہ سلسلۂ وقت یہ ادوار نہ ہوتے
ہوتے نہ مذاہب، کوئی اوتار نہ ہوتے
گِرجا، حرم و دیر یہ معبَد نہیں ہوتے
دنیا نہیں ہوتی جو محمّدؐ نہیں ہوتے
'فی احسنِ تقویم'، 'الی النّور' محمدؐ
قرآن کی آیات کا مذکور محمدؐ
ہر دور میں اللہ کا منشور محمدؐ
مرضیِ خداوند پہ مامور محمدؐ
دشمن ہوں یا احباب کسی ڈھب نہیں کھُلتے
اللہ کی مرضی کے بِنا لب نہیں کھُلتے
اِجلالِ خداوند کا مظہر ہیں محمدؐ
عالَم میں نمایاں ہیں، منوّر ہیں محمدؐ
ایمان کا ایقان کا مَصدر ہیں محمدؐ
بس اِس لیے انسان کا پیکر ہیں محمدؐ
فیّاضی و اِکرامِ صمَد دیکھ لے دنیا
جی بھر محمدؐ میں اَحَد دیکھ لے دنیا
اے مالک و مختارِ دو عالم مرے مولاؐ
اے عازمِ معراجِ معظّم مِرے مولاؐ
اے صاحبِ تکریم و مکرّم مرے مولاؐ
اے ناظم و منظوم و منظّم مرے مولاؐ
کشکولِ تفکُّر کو مفاہیم سے بھر دے
عارفؔ کو بھی کچھ نعت نگاری کا ہنر دے
عسکری عارفؔ
Comments
Post a Comment