Posts

Showing posts from April, 2018

قصیدہ

کیا بتاؤں میں کیا حسین سے ہے سید الانبیا حسین سے ہے جس نے بخشی ہے زندگی حق کو ہاں وہی کربلا حسین سے ہے جس سے ملتی ہے موت کو بھی حیات ہاں وہ خاک شفا حسین سے ہے عشق کی ابتدا تھی آدم ...

سلام

سلام سفرِ عشق کلام عسکری عارف عصمت کے آسماں کے ستارے سفر میں ہیں ایماں کی رہگزر پہ اجالے سفر میں ہیں اے آفتاب اپنی تمازت کو ضبط کر بنت نبی کی گود کے پالے سفر میں ہیں قرآن بھی ن...

غزل

غزل کیوں یہ کہتے ہو کہ ایسا نہیں ہونے والا آدمی چاہے تو پھر کیا نہیں ہونے والا خواہشیں ہوتی ہیں انسان کی فطرت میں نہاں کوئی انسان فرشتہ نہیں ہونے والا منصب و تخت و زر و لعل و گ...

غزل

خود سے بیزار ہو گیا ہوں میں کتنا دشوار ہو گیا ہوں میں چبھ رہا ہوں سبھی کی آنکھوں میں کیا کوئی خار ہو گیا ہوں میں اب کسی کو بھی میں قبول نہیں ایسا انکار ہو گیا ہوں میں عشق کرنا ہے ...

غزل

حضرت جون ایلیا کی نذر سوچتا   ہوں   میں   اطمنان   میں   کیا خود غرض  سب ہیں اِس جہان میں کیا تیرے  ہونٹوں  کا زہر   پینے سے جان آئے گی میری جان میں کیا ایک  شیشی  بھی   زہر  ک...