نوحہ مدینہ ائے ہیں اہل حرم زندان سے چھٹ کر
مدینہ آئے ہیں اہل حرم زندان سے چھٹ کر بدن پر کالے کپڑے ہیں، سفر کی گرد چہرے پر مدینہ دیکھ کر کلثوم نے رو کر پڑھا نوحہ مدینہ تو ہمارے آنے کو مقبول مت کرنا گیے تھے جب یہاں سے تھا چمن آباد زہرا کا ہماری گودیاں اجڑیں، نہیں وارث رہے سر پر جو پردے کا محافظ تھا لبِ دریا گیا مارا تڑپ کے تڑپ کر زانوئے شبیر پہ اکبرؑ نے دم توڑا ہوا پامال گھوڑوں کی سموں سے دلبرِ فروی لگا تیرِ ستم چھ ماہ کے اصغرؑ کی گردن پر اداسی چھائی ہے چہروں پہ آنکھوں میں ہیں اشکِ غم کچھ ایسے زخم ہیں دل میں نہیں جن کا کوئی مرہم سروں کو پیٹ کر کرتا ہے کنبہ نوح و ماتم مدینہ لٹ گیا لوگوں صدا دیتے ہیں رو رو کر ضعیفی آ گئی سجاد پر بارِ مصیبت سے لرزتا ہے بدن بیمار کا ضعف و نقاہت سے چلا جاتا نہیں دو گام چھالوں کی اذیت سے گلا زخمی ہے ایسا سانس بھی لینا ہوا دوبھر پڑے ہیں پیاس سے کانٹے یتیموں کی زبانوں میں نشانِ ریسماں تازہ ہیں بیواؤں کے شانوں میں فقط سجادؑ ہی زندہ ہیں مردوں میں جوانوں میں ہوئے پردیس میں برباد ایسے آلِ پیغمبرؐ جو جینے کا سہارا تھے انہیں جنگل میں چھوڑ آئے دلوں پر داغ ہیں سب کے کوئی کیسے سکوں پائے وہ ہنستا کھیلتا کنبہ ...