Posts

Showing posts from August, 2025

نوحہ مدینہ ائے ہیں اہل حرم زندان سے چھٹ کر

مدینہ آئے ہیں اہل حرم زندان سے چھٹ کر بدن پر کالے کپڑے ہیں، سفر کی گرد چہرے پر مدینہ دیکھ کر کلثوم نے رو کر پڑھا نوحہ مدینہ تو ہمارے آنے کو مقبول مت کرنا گیے تھے جب یہاں سے تھا چمن آباد زہرا کا ہماری گودیاں اجڑیں، نہیں وارث رہے سر پر جو پردے کا محافظ تھا لبِ دریا گیا مارا تڑپ کے تڑپ کر زانوئے شبیر پہ اکبرؑ نے دم توڑا ہوا پامال گھوڑوں کی سموں سے دلبرِ فروی لگا تیرِ ستم چھ ماہ کے اصغرؑ کی گردن پر اداسی چھائی ہے چہروں پہ آنکھوں میں ہیں اشکِ غم کچھ ایسے زخم ہیں دل میں نہیں جن کا کوئی مرہم سروں کو پیٹ کر کرتا ہے کنبہ نوح و ماتم مدینہ لٹ گیا لوگوں صدا دیتے ہیں رو رو کر ضعیفی آ گئی  سجاد پر بارِ مصیبت سے لرزتا ہے بدن بیمار کا ضعف و نقاہت سے چلا جاتا نہیں دو گام چھالوں کی اذیت سے گلا زخمی ہے ایسا سانس بھی لینا ہوا دوبھر پڑے ہیں پیاس سے کانٹے یتیموں کی زبانوں میں نشانِ ریسماں تازہ ہیں بیواؤں کے شانوں میں فقط سجادؑ ہی زندہ ہیں مردوں میں جوانوں میں ہوئے پردیس میں برباد ایسے آلِ پیغمبرؐ جو جینے کا سہارا تھے انہیں جنگل میں چھوڑ آئے دلوں پر داغ ہیں سب کے کوئی کیسے سکوں پائے وہ ہنستا کھیلتا کنبہ ...

اسلام بچانے والے کے مقصد کو بچایا زینبؐ نے

مصرعہ طرح 'اسلام بچانے والے کے مقصد کو بچایا زینبؐ نے' انجمن عباسیہ نمولی ایودھیا کیا خوب لیا ہے ظالم سے شبیرؑ کا بدلا زینبؐ نے شمشیر سے اپنے خطبوں کی سر ظلم کا کاٹا زینبؐ نے گر ختم امامت ہو جاتی لازم تھا قیامت آ جاتی عاشور کو جلتے خیموں میں اسلام بچایا زینبؐ نے بھائی نے کیا گلزارِ ارم اک روز میں دشتِ کربل کو اور شام کو نوری لہجے سے بخشا ہے اجالا زینبؐ نے جس شہرِ ستم سے اٹھی تھی تاغوت کی بیعت کی آواز اُس شہر میں فتحِ سرورؑ کا پرچم لہرایا زینبؐ نے باقی نہ رہی سر پہ چادر، رسی سے بندھے تھے ہاتھ مگر ایوانِ یزیدی کو عزم و ہمت سے گرایا زینبؐ نے سایہ کی طرح ہمراہ رہی ہر گام بھتیجے کے اپنے سجادؑ کو اک لمحہ کے لیے چھوڑا نہ اکیلا زینبؐ نے اس واسطے باقی حشر تلک حیدرؑ کی ولایت ہے لوگو 'اسلام بچانے والے کے مقصد کو بچایا زینبؐ نے' اللہ رے صبرِ بنتِ علیؑ تھی سامنے میت بیٹوں کی اِس پر بھی خدا کا شکر کیا، آنسو نہ بہایا زینبؐ نے عاشور کو اپنی آنکھوں سے کس طرح سے دیکھا رب جانے بھائی کے گلے پہ کند چھری، اکبرؑ کا کلیجہ زینبؐ نے چادر بھی چھنی، خیمے بھی جلے، گھر بار لٹا، قیدی بھی بنی...

شام غریباں

ہائے شام غریباں جب کٹ گیا شبیرؑ کا سر دشتِ بلا میں انصار  ہوئے  قتل سبھی  راہِ خدا  میں اک دھوم  مچی  لشکرِ اربابِ جفا میں مظلومی تھی غربت تھی فقط آلِ عبا میں سادات  پہ  کرنے کو ستم  اور زیادہ خیموں کو جلانے کے لیے آ گیے اعدا اسبابِ  حرم   لوٹنے    کا   کرکے   ارادہ جب خیموں میں  لشکر عمرِ سعد کا آیا سادات میں اک حشر تھا، کہرام بپا تھا بچوں کے جگر ہلتے تھے، روتی تھی سکینہؐ ہر سمت فقط گریہ و زاری کا سماں تھا اولادِ   محمدؐ   پہ  گرا   کوہِ   گراں  تھا وہ جن سے زمانے میں تھا پردے کا چلن عام انکی  ہی  ردا   لوٹنے  کو   آئے  خوں   آشام ہنستے  ہوئے  آتے  تھے   نظر  اشقیا  ہر  گام تھی اہلحرم  پر  یہ  قیامت  سے  بڑی  شام سادات کی آنکھوں سے لہو پھوٹ رہے تھے ہنس ہنس  کے  ستمگار  ردا  لوٹ رہے  تھے جب شمر نے زینب...

رباعیات

مرقد نبیؐ کا، بھائی کا روضہ چھوڑا اک رات میں شبیرؑ نے کیا کیا چھوڑا اُس روز سے زہراؐ نے بھی مسکن چھوڑا جس روز  سے  سرورؐ نے  مدینہ چھوڑا غم شہ کا رخِ حق کے لیے غازہ ہے چودہ سو برس بعد بھی یہ تازہ ہے جو روتا ہے شبیر کے غم میں عارفؔ وا اُس کے لیے خلد کا دروازہ ہے بازار میں تھے اہلحرم بے چادر سجادؑ کی غیرت سے نہ آٹھتی تھی نظر لکھا ہے کہ نیزے  سے  کئی بار گرا احساس ندامت سے علمدارؑ کا سر زوّارِ  شہؑ   دیں  کا  شرف  عالی  ہے طاعت سے قدم اُسکا نہیں خالی ہے جب روضہء شبیرؑ کو دیکھا تو لگا معراج  سرِ  عرشِ  عُلا  پا  لی  ہے دو ماہ دیا ہے بھرے گھر کا  پُرسہ اب دیجیے مسموم  پسرؑ  کا پُرسہ دو  داغ  ملے ایک ہی دِن  زہراؐ کو شہزادیؐ کو دو اُنکے پدرؐ کا پُرسہ جس  نے  غمِ   شبیرؑ  کی  دولت  پائی بے تخت و محل اُس نے حکومت پائی جو رویا  حسین  ابن علیؑ  پر  عارفؔ اُس نے ہی  محمدؐ  کی شفاعت پائی   شبیرؑ کا  غم روح...

مرثیہ مولا علی علیہ السلام

اے مومنو  علیؑ کی  شہادت کے روز ہیں ماتم کے  روز  ہیں یہ عبادت کے روز ہیں حلال مشکلات  کی رخصت کے روز  ہیں حسنینؑ کی یتیمی کے غربت کے روز ہیں آتی  ہے  آسماں  سے صدا  کیا غضب ہوا سجدے  میں  قتل  سیدِ  عالی نسب ہوا آئی صدا  جو  زخمی  ہوئے  شیرِ  ذوالجلال سن کر  صدا یہ زینبؐ و کلثومؐ تھیں نڈھال بابا کو  گھر  میں  لائے جو حسنینؑ پر ملال رنگیں لہو سے ریشِ مبارک تھی، سر کے بال خوں   میں  نہایا   فاتحِ   بدر  حنین   تھا کوفہ میں یا علیؑ کا فقط شور و شین تھا زخمی ہے  سر   امام   کا  شدت  کا درد ہے خوں کی  کمی سے آپکا چہرہ بھی ذرد ہے بستر  پہ  ہائے  موت   کے  خیبر کا مرد ہے غمگین   اہلبیت   کا   ہر    ایک   فرد   ہے بے چینی اِسقدر ہے نہ سوتے  ہیں مرتضٰیؑ بچوں کو روتا دیکھ کے روتے ہیں مرتضٰیؑ پڑتی...