Posts

شبیر کا ماتم ہے یہ شبیر کا ماتم

 شبیر ع کا ماتم ہے یہ شبیر ع کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے یہ.......... ہم اہل عزا کرتے ہیں شبیر کا ماتم مجلس نہ رکے گی یہ محرم نہ رکے گا تا حشر کبھی شاہ کا ماتم نہ رکے گا ہم زندہ رہیں یہ نہ رہیں غم نہ رکے گا یہ سینہ زنی پشت پہ زنجیر کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے....... شبیر ع. سے الفت یہ ہماری رہے باقی یہ آہ و بکا گریہ و زاری رہے باقی تابوت و علم تعزیہ داری رہے باقی جھولے کو سجاکر کرو بے شیر ع. کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے........... زینب ع. کی امانت ہے عزاداریء شبیر ع ظالم سے برائت ہے عزاداریء شبیر ع. مظلوم کی نصرت ہے عزاداریء شبیر ع. ہے ماتمِ شہ زینبِ ع. دلگیر کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے........ باطل سے اُلجھنے کے لئے سامنے آؤ ہوں لاکھ ستمگار نہ تم سر کو جھکاؤ خوشنودیئے خالق کے لئے سر کو کٹاؤ دیتا ہے ہمیں درس یہ شبیر ع. کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے...... جسکو غمِ سرور ع. کا قرینہ نہیں آیا وہ زندہ ہے لیکن اُسے جینا نہیں آیا یا کہئیے کہ ساحل پہ سفینہ نہیں آیا وہ کرتا رہے اپنی ہی تقدیر کا ماتم شبیر ع کا ماتم ہے...... وہ ایک تبسم تھا کہ تلوار دُد...

نوحہ تیر ستم کی زد پہ ہے بچہ ربابؐ کا

 تیرِ ستم کی زد پہ ہے بچہ ربابؐ کا آنے لگا ہے منہ کو کلیجہ ربابؐ کا گردن کو چھیدتا ہوا سرورؑ کو جا لگا ہاتھوں پہ شہؑ کے مر گیا بچہ ربابؐ کا ہوتے ہیں نحر ایسے بھی بچے مرے خدا اصغرؑ کے قتل پر تھا یہ جملہ ربابؐ کا یہ کہ کے رن میں بھیج دیا اپنی جان کو یا رب قبول کیجیو صدقہ ربابؐ کا وہ چلچلاتی دھوپ، دہکتا وہ ریگزار  مُرجھا گیا عطش سے دلارا ربابؐ کا مچھلی کی طرح تڑپا کیا تین روز تک دشتِ بلا میں ہنسلیوں والا ربابؐ کا وارث بھی قتل ہو گیا بچے بھی مر گیے کچھ بھی بچا نہ بعدِ سکینہؐ ربابؐ کا گہوارہ پسر کی جلی لکڑیوں کی خاک باقی یہی تھا ایک اثاثہ ربابؐ کا گودی بھی اُجڑی مانگ بھی عارفؔ اُجڑ گئی اہلحرم میں دُکھ تھا یہ تنہا ربابؐ کا عسکری عارفؔ

مرثیہ علی اکبرؑ

 جب سینہ پہ اکبرؑ نے سناں دشت میں کھائی ہم شکلِ پیمبرؐ نے سناں دشت میں کھائی شہؑ کے مہ انور نے سناں دشت میں کھائی لیلیٰؑ کے گلِ تر نے سناں دشت میں کھائی شہؑ کہتے تھے لو چھن گئی بینائی ہماری اب مرنے کی نزدیک گھڑی آئی ہماری دیتے تھے صدا شاہؑ کہاں ہو علی اکبرؑ اک بار تو بابا کو صدا دو علی اکبرؑ گھبراؤ نہ، کچھ رنج نہ کھاؤ علی اکبرؑ  آتا ہے پدر، دم کو سنبھالو علی اکبرؑ مقتل میں جواں لعل کا غم کھاتے تھے شبیرؑ دو چار قدم چلتے تھے گر جاتے تھے شبیرؑ پہنچے جو قریبِ پسرِ نوجواں سرورؑ دیکھا کہ تڑپتا ہے پڑا خاک پہ اکبرؑ بے ساختہ شبیرؑ نے زانو پہ رکھا سر فرمانے لگے بیٹے سے پھر سبطِ پیمبرؐ آیا ہے پدر غم نہ کرو اے مرے جانی کچھ عرض کرو مجھ سے مرے یوسفِ ثانی سُن کر یہ سخن شہ کے پکارے علی اکبرؑ  سو جان سے بابا یہ پسر صدقہ ہو تم پر کیا حال کہوں بابا کہ دل آتا ہے باہر لگتا ہے کہ چلتی ہے چھری سینہ کے اندر اِس واسطے تکلیف بہت ہوتی ہے بابا برچھی مرے سینے میں کہیں ٹوٹی ہے بابا ممکن ہو تو پھل برچھی کا سینہ سے نکالو  پر ...

شہ کو تقدیر ضعیفی میں کہاں لائی ہے نوحہ

 شہ کو تقدیر ضعیفی میں کہاں لائی ہے نوجواں بیٹے نے سینے پہ سناں کھائی ہے کچھ نہیں دکھتا اندھیرا ہے نگاہوں میں فقط ختم اب ہونے کو شبیرؑ کی بینائی ہے کچھ نہیں دکھتا اندھیرا ہے نگاہوں میں فقط ختم اب ہونے کو شبیرؑ کی بینائی ہے جسکو پروان چڑھایا تھا پھوپی زینبؐ نے اُسی اٹھارہ برس والے کو موت آئی ہے جسکی شادی کا تھا ارمان تجھے اے صغریٰؐ خون کی مہندی رچائے وہ ترا بھائی ہے ہائے پیاسے کو کسی نے نہ پلایا پانی منہ میں کانٹے ہیں پڑے، آنکھ بھی پتھرائی ہے خونِ اکبرِؑ سے کیا بالوں کو لیلیٰ نے خضاب بارہا لاشۂ فرزند پہ غش کھائی ہے خاک پر بیٹھے ہیں شبیرؑ کمر پکڑے ہوئے لاشِ اکبر ہے، بیابان ہے، تنہائی ہے ناز تھا جس پہ حسین ابنِ علی کو عارفؔ اُس جواں لعل کو جنگل کی فضا بھائی ہے عسکری عارفؔ

نوحہ ہونٹوں پہ دمِ آخر عباس کے نوحہ تھا

ہونٹوں پہ دمِ آخر عباسؑ کے نوحہ تھا آقا! میرے لاشے کو خیمے میں نہ لے جانا معصوم سکینہؑ سے وعدہ نہ ہوا پورا آقا! میرے لاشے کو خیمے میں نہ لے جانا کوشش تو بہت کی پر پہنچا نہ سکا پانی اک تیر سے سب میرا ارمان ہوا پانی افسوس! نہ بچوں کی میں پیاس بجھا پایا تقدیر نے کیسا دن پردیس میں دکھلایا زہراؑ کا بھرا کنبہ پیاسا ہے لبِ دریا کچھ مجھ سے نہ ہو پایا، عباسؑ رہا زندہ بے کار ہے اب جینا، مقصد نہ ہوا پورا سہ روز کے پیاسوں کو پانی نہ پلا پایا شرمندہ بہت ہوں میں، بچوں سے یہی کہنا پائے گی خبر جس دم عمو کو قضا آئی سوکھے ہوئے کوزے کو توڑے گی مری بچی برداشت نہیں ہوگا اس سے یہ مرا صدمہ مِری پیاری سکینہؑ جو گودی میں مری کھیلی یہ آخری خواہش بھی کر پایا نہ میں پوری دل سے یہ قلق میرے مر کر بھی نہ جائے گا میں آپ کی نصرت کو آیا تھا مدینے سے اب حال ہوا ایسا، قاصر ہوا جینے سے پردیس میں اب چھوڑے جاتا ہوں تمہیں تنہا مچھلی سا تڑپتا ہے جھولے میں علی اصغرؑ یہ دیکھ کے چلتا ہے خنجر سا مرے دل پر اے کاش کہ مشکیزہ خیمے میں پہنچ پاتا عباسؑ کی غربت کا کیسے ہو بیاں، عارفؔ کس دل سے لکھوں نوحہ، ہے فکر دھواں، عارفؔ ...

نوحہ مقتل میں یہ شبیرؑ سے فرماتے تھے اکبرؑ

مقتل میں یہ شبیرؑ سے فرماتے تھے اکبرؑ بابا مرے سینے میں سِناں ٹوٹ گئی ہے وہ درد ہے سینے میں کہ دل آتا ہے باہر بابا مرے سینے میں سِناں ٹوٹ گئی ہے پھل برچھی کا بابا جو کلیجے میں نہاں ہے پھونکتا ہے جگر درد سے، آنکھوں میں دھواں ہے رہ رہ کے فقط خون اُگلتا یہ جواں ہے لگتا ہے کہ اب تم سے جدائی ہے مقدر ہاں باپ کی آنکھوں کی ضیا ہوتا ہے بیٹا ماں باپ سمجھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے بیٹا مظلوم پدر تم پہ فدا ہوتا ہے بیٹا غربت میں جدا ہوتا ہے تُم سے علی اکبرؑ برچھی سے کلیجے میں عجب درد ہے بابا خوں اِتنا بہا ہے کہ بدن سرد ہے بابا اِس واسطے چہرا بھی مِرا زرد ہے بابا دم توڑنے والا ہے تمہارا مہ انور بابا مجھے سینے سے لگائے ہوئے رکھنا کچھ پل ہی سہی آنکھ ملائے ہوئے رکھنا زانو پہ مجھے اپنے لٹائے ہوئے رکھنا پھر دیکھنا مجھ کو ہے کہاں تم کو میسر پیاسے ہو بہت کتنوں کا غم کھائے ہو بابا اک پل کو بھی آرام نہیں پائے ہو بابا مقتل میں مگر دوڑے چلے آئے ہو بابا یہ سوچ کے ہوتا ہے مجھے صدمہ برابر آتی ہے بہت فاطمہ صغریٰؐ کی مجھے یاد ہر وقت مری یاد میں کرتی ہے وہ فریاد بتلائے اُسے کون ہوئی مجھ پہ جو اُفتاد مر جائے گی پائے گی خب...

نوحہ روکے کہتی تھی ماں علی اکبرؑ

ہو گئے قتل جب علی اکبرؑ اُمِّ لیلیٰ پچھاڑیں کھاتی تھی نیند آتی نہیں تھی راتوں کو یادِ اکبرؑ بہت رلاتی تھی گزرے منظر بہت رلاتے تھے اشک آنکھوں سے گرتے جاتے تھے نوحہ رہتا تھا ہر گھڑی لب پر اے میرے نوجواں علی اکبرؑ رو کے کہتی تھی ماں، علی اکبرؑ اے میرے نوجوان علی اکبرؑ مل گئے سارے خواب پانی میں موت آئی تجھے جوانی میں تو نے کھائی سناں، علی اکبرؑ مجھ کو درد و اَلَم نے گھیرا ہے میری آنکھوں میں بس اندھیرا ہے ہے نظر میں دھواں، علی اکبرؑ لُٹ گیا دشت میں چمن میرا مر گیا ہائے گُل بدن میرا کیسی آئی خزاں، علی اکبرؑ تیرے مرنے کے بعد کیا جینا زہر اشکوں کا ہے مجھے پینا جی نہ پائے گی ماں، علی اکبرؑ داغ کیسے تیرا اٹھاؤں میں اس اذیت سے مر نہ جاؤں میں سخت ہے امتحاں، علی اکبرؑ کیسے منظر وہ شاہؑ نے دیکھا ایڑیاں خاک پر رگڑتا تھا جب تو کھا کے سناں، علی اکبرؑ دن جب آیا تمہاری شادی کا ہائے غربت میں تم کو آئی قضا اب ہے رونے کو ماں، علی اکبرؑ تو نہیں ہے تو جان جاتی ہے یاد تیری بہت ستاتی ہے چین پاؤں کہاں، علی اکبرؑ دشت میں کیا نصیب پھوٹ گیا تو جوانی میں مجھ سے چھوٹ گیا ہر نفس ہے گراں، علی اکبرؑ جب جوانوں کو عید پر ...

مسدس مولا عباس علمدارؑ

 مسدس باب الحوائج حضرت عباس علمدارؑ میں ہوں عباسؑ مرا باب حوائج ہے لقب خاندانِ بنی ھاشم کا قمر کہتے ہیں سب مرا حملہ ہے قیامت مرا انداز غضب  کانپتے ہیں مری ہیبت سے شجاعانِ عرب ناوکِ چشم یوں سینے میں اتر جاتا ہے مرا دشمن تو مجھے دیکھ کے مر جاتا ہے  اپنے بابا کی دعاؤں کا نتیجہ میں ہوں گود میں حیدرؑ و حسنینؑ کی کھیلا میں ہوں  مختصر ہے پسرِ فاطمہ زہراؐ میں ہوں پنجتن پاک کی آنکھوں کا اجالا میں ہوں حسنِ اخلاق و وفادارای کا مفہوم ہوں میں راحتِ جان و دلِ زینبؐ و کلثومؐ ہوں ختم ہے جس پہ وفا ایسی کہانی میں ہوں قلزمِ مہر و محبت کی روانی میں ہوں جزبۂ نصرت و طاعت کے‌ معانی میں ہوں مختصر ہے اسداللہ کا ثانی میں ہوں ضیغمِ شیرِ خدائے ازلی کہتے ہیں سورمہ مجھکو زمانے کے علیؑ کہتے ہیں اپنی تعداد پہ اِتراتے ہیں کیوں بانیِ شر شیر کا سامنا کرنے کو ہے درکار جگر ورنہ ہو جاتی ہے تعداد ہزاروں کی صِفر شیر کے مدِّ مقابل بھی ہوں روباہ اگر پاس آتے نہیں بس دور سے غرّاتے ہیں  دُم دبائے ہوئے جنگل کو چلے جاتے ہیں زندگانی ہے مری وقف برائے شبیرؑ مرے سینے میں ہے لبریز ولائے شبیرؑ خادمِ سیدِ ابرار، گد...

منقبت امام حسین علیہ السلام

 حسینؑ جسکا سر تمہارے در پہ خم نہیں ہوا حضورِ ربّ العالمیں وہ محترم نہیں ہوا جسے نصیب ہو گیا غمِ حسینِؑ شاہِ دیں پھر اُسکو اِس زمانہ میں کوئی بھی غم نہیں ہوا ُاُسے کہاں نصیب ہے ہدایتِ خدائے حق وہ جس پہ‌ حضرتِ حسینؑ کا کرم نہیں ہوا اے شیر خوارِ کربلا تری عطش کا مرتبہ قلم تو خشک ہو گیا مگر رقم نہیں ہوا وہ بے وفا ہے وفا میں کہ رہا ہوں مان لو کہ نصب باوفا کا اُس کے گھر علم نہیں ہوا یزید پر تو خود تھی اُمّتِ رسولؐ متفق سرِ حسینؑ یونہی دشت میں قلم نہیں ہوا حسینیت کی وسعتوں میں جس نے خود کو کھو دیا کبھی وہ حاصلِ زمانۂ عدم نہیں ہوا اے مُنکرِ مقامِ کربلا تجھے خبر بھی ہے  طواف کرکے بھی تو قابلِ حرم نہیں ہوا عسکری عارفؔ

منقبت امام زمانہ

 روئے زمیں سے ظلم و تشدد کو دور کر  اے ھادی و امامِ زمانہ ظہور کر   محسوس ہو رہی ہے ہواؤں میں اک گھٹن  بادِ بہارِ عدل و صداقت وفور کر  ہم بھی اسیرِ خواہشِ دیدار ہیں ترے  آنکھیں ہماری جلوہ گہِ کوہِ طور کر پھر اقتدار، طالبِ بیعت ہے صبر سے  دجّالیت کے نشّۂ غفلت کو چور کر   بڑھتا ہی جا رہا ہے اندھیروں کا اقتدار  کرکے ظہور چار طرف نور نور کر   وہ جنکو مسکرائے زمانہ گزر گیا  ممکن کچھ اُنکے واسطے وجہِ سرور کر   عارفؔ امامِ عصر کے دیدار کے لیے  اعمال اپنے لائقِ مولا ضرور کر  عسکری عارفؔ