Posts

Showing posts from September, 2023

مسدس/نوحہ در حال شہادت امام حسن علیہ السلام

جب  زہر  دیا ہے حسنِؑ سبز  قبا  کو اک درد اُٹھا دل میں امامِؑ دو سرا کو وہ درد کی شدّت کہ تڑپتے تھے دوا کو قے ہوتی تھی رہ رہ کے شہ عقدہ کشا کو احمؐد کے جگربند پہ یوں سم کا اثر تھا ٹکڑوں میں جگر بنٹ گیا حیدرؑ کے پسر کا وہ  زہر کی تاثیر  کہ پھٹتا  تھا کلیجہ بڑھ جاتی تھی تکلیف جو کٹتا تھا کلیجہ شعلوں کی طرح سینے میں جلتا تھا کلیجہ تقسیم شدہ طشت میں گرتا تھا کلیجہ ہوتی تھی چبھن سینہ میں اک تیر کی صورت تھا زہرِ ہلاہل کسی شمشیر کی صورت صد پارہ ہوئے قلب و جگر سینہ میں جس دم آواز دی  گھر والوں کو مسموم ہوئے ہم برپا کیا پھر زینبؐ و کلثومؐ نے ماتم عباسؑ و حسینؑ آئے قریبِ شہ عالم بہنوں سے کہا روؤ نہ اے زینب و کلثوم ہے مرضیِ معبود ہمیں ہونا ہے مسموم شبیرؑ سے  بولے  کہ  برادر  مرے پیارے اب میرا بھرا گھر ہے تمہارے ہی سہارے کچھ دیر میں اب ہم بھی زمانے سے سدھارے تھے آنکھوں سے مولاؑ کی رواں اشکوں کے دھارے تکلیف سے بے حال نظر آتے تھے مولاؑ بہنوں کی فغاں دیکھ کے غم کھاتے تھے مولاؑ پھر سینے سے قاسمؑ کو لگا کر کے کیا پیار لب چومے کبھی، چوما گلا اور...

نوحہ امام در حال شہادت امام حسن علیہ السلام

گریہ کناں ہے چاند تو سورج گہن میں ہے ٹکڑے ہوا حسنؑ کا کلیجہ لگن میں ہے برپا جو ایک حشر سا چرخِ کہن میں ہے ڈوبا ہوا بتولؐ کا تارہ گگن میں ہے اُمّت نے پھر ستایا ہے بنتِ رسولؐ کو زیرِ لحد بتولؐ کی میت گھٹن میں ہے تیروں میں مجتبٰیؑ کا جنازہ الجھ گیا زخموں کی کائنات گُلِ پنجتنؑ میں ہے اُجلا کفن تھا، خوں سے مگر سُرخ ہو گیا زخموں سے چور سبطِ پیمبرؐ کفن میں ہے نانا کا پہلو مل نہیں پایا نواسے کو کتنی غریب آلِ پیمبرؐ وطن میں ہے یثرب میں مجتبٰیؑ کے جنازے پہ تیر تھے تیروں پہ ہائے لاشہء شبیرؑ بَن میں ہے یثرب میں ہائے زہر بھری کیا ہوا چلی مرجھایا اِک گُلاب نبیؐ کے چمن میں ہے محوِ فغاں ہیں زینبؐ و کلثومؐ پیٹ کر وقتِ جدائی مومنو بھائی بہن میں ہے روتے ہیں مصطفیٰؐ و علیؑ فاطمہؐ حسینؑ عارفؔ صدائے گریہ بپا انجمن میں ہے

زندان ستم سے تو رہا ہو گئی زینب

زندان ستم  سے  تو رہا  ہو گئی زینب پر بالی سکینہ سے جدا ہو گئی زینب کیا تھی جو مدینہ سے چلی تھی سوئے کربل عاشور سے  اک  سال میں کیا  ہو گئی  زینب بے چادری کچھ کم تو شہادت سے نہیں ہے اُمّت  کے  لیے حق  پہ  فدا  ہو  گئی زینب جس کوفہ کی شہزادی کہی جاتی تھی اک روز اُس کوفہ میں کیوں باغی بھلا ہو گئی زینب؟ تھا طالب بیعت کو گماں فتح کا لیکن بیعت کے لیے بھائی کی لا ہو گئی زینب جب سو گیے عباس لب علقمہ عارف پھر مثلِ  علمدارِ  وفا ہو گئی زینب عسکری عارف

الوداعی نوحہ

قبرِ اخی پر یہی کہتی تھی روکر بہن الوداع صد الوداع اے مرے بھائی حسین لٹ کے بہن جاتی ہے سوئے مدینہ اخی شانوں میں رسی بندھی قیدی بنائی گئی دل میں قلق ہے یہی دے نہیں پائی کفن الوداع صد الوداع اے مرے بھائی حسین لٹ گیے سب مال و زر خیمے جلائے گیے بے ردا بازار میں ہائے پھرائے گیے ختم نہ ہوگی کبھی دل سے مرے یہ چبھن جس کو وطن جانے کا تھا بڑا ارماں وہی شام کے زندان میں مر گئی روتی ہوئی ایک جلا کُرتا ہی بن گیا اُسکا کفن برسرِ ریگِ تپاں  دھوپ میں جلتا رہا جلتی زمیں ترا  لاشہ  تھا عریاں پڑا اے  مرے  تشنہ دہن ہائے دُریدہ بدن دشت میں مارے گیے بھائی بھتیجے سبھی حد ہے کہ مارا گیا اصغرِ بے شیر بھی سبکی ہوں میں سوگوار پیکرِ رنج و محن ہاتھوں پہ اپنے لیے داغِ رسن جاتی ہوں دل پہ بہتر کا داغ لے کے وطن جاتی ہوں مر گیے جنگل میں سب جیتی رہی یہ بہن ہم کو مدینے سے تم لایے تھے کس شان سے بھائی بھتیجے پسر بھانجے سب ساتھ تھے مر گیے پیاسے سبھی ہائے غریب الوطن ہر نفس اک بار ہے بھائی تمہارے بغیر زندگی دشوار ہے بھائی  تمہارے بغیر شمعِ درِ  پنجتن،  سبطِ  رسولِ زمن چھوڑ کے عارف ل...

بازار شام یاد جو آئے تو کیا کرے

Image

نوحہ در حال اربعینِ امام حسین علیہ السلام

اے مومنو بیاں ہے روایت یہ مختصر جابر ہیں پہنچے جب کہ مزارِ حسینؑ پر روتے تھے قبرِ شاؑہ پہ تھامے ہوئے جگر آئی مزارِ سبط پیمبرؐ سے یہ صدا آنے کو ہیں یہاں پہ نبیؐ کی نواسیاں جابرؒ خدا کے واسطے جاؤ مزار سے طے کرکے اک طویل مصیبت بھرا سفر آتی ہے ظلم و جبر کی ماری بہن اِدھر روئے گی میری قبر پہ آفت کی مبتلا جابرؒ خدا کے واسطے جاؤ مزار سے میرے بغیر کیسے گزارا ہے ایک سال سننا ہے مجھکو اپنی بہن سے سفر کا حال کیا کیا سہے ہیں اُس نے ستم بعدِ کربلا جابرؒ خدا کے واسطے جاؤ مزار سے سینے پہ میرے سوتی تھی جو میری لاڈلی وہ کربلا سے شام تلک کس طرح گئی اُس چار سال والی سکینہؐ کا کیا ہوا جابرؒ خدا کے واسطے جاؤ مزار سے آتی ہے وہ کہ فاطمہ زہراؐ ہیں جسکی ماں ہے ہے وہی پھرائی گئی ہے کشاں کشاں مجھ سے بیاں کرے گی اسیری کا واقعہ جابرؒ خدا کے واسطے جاؤ مزار سے ہو   قدردانِ  آلِ  نبیؐ جانتا  ہوں  میں نانا کے ہو صحابی بڑے مانتا ہوں میں لیکن پے سکونِ دلِ سبطِ مصطفیٰؐ جابرؒ خدا کے واسطے جاؤ مزار سے چھپ جاؤ جاکے تم کسی ایسے مقام پر اہلحرم پہ پڑنے نہ پائے جہاں نظر سیدانوں کا قبر پہ آتا ہے قافل...

تازہ مرثیہ درحال چہلم شہدائے کربلا علیہم السلام اجمعین

تازہ مرثیہ درحال چہلم شہدائے کربلا علیہم السلام اجمعین زنداں سے چھٹ کے کرب و بلا آئے جب حرم پہنچے ہیں جب شہیدوں کی تربت پہ اہل غم اشکوں سے تربتوں کو کیا وارثوں کی نم روتے تھے یوں کہ تن سے نکلنے لگا تھا دم عباسؑ  و اکبرؑ  و علی اصغرؑ کی قبر پر گریہ کناں تھے سبط  پیمبرؐ کی قبر پر لیلیٰؐ جو پہنچی قبر پہ اپنے جوان کی لپٹی  لحد سے اور یہ آواز رو کے دی اکبرؑ اٹھو کہ اماں رہا ہو کے آ گئی بیٹا تمہارے بعد ہے برباد زندگی اکبرؑ ترے بغیر وطن کیسے جاؤں گی تا عمر تیری یاد میں آنسو بہاؤں گی اے میرے دل کے چین مرے نوجواں پسر آنکھوں کے نور اے میری تسکینِ جاں پسر اماں کو اپنی قبر میں دیدو اماں پسر بن تم بتاؤ جائے یہ مادر کہاں پسر تم سے لپٹ کے حال سفر کا سناؤں گی اٹھو تمہارے سینے پہ مرحم لگاؤں گی بانوؐ تھی قبرِ اصغرِؑ گل رو پہ اشکبار روتی تھی پیٹ کر سر و سینہ وہ دلفگار روکر پکاری اے مرے ششماہے شیرخوار اٹھو کہ اماں آئی ہے کرنے کو تمکو پیار ہاتھوں کو اپنے جھولا بناکر جھلاؤں گی اصغرؑ میں تمکو لوری سناکر سلاؤں گی سوتے ہو کیسے خاک کے اندر اے گلبدن یہ ریگزار تپتا ہوا، اور اجاڑ بن  تمکو ب...

مرثیہ درحال چہلم شہدائے کربلا علیہم السلام اجمعین

Image