مسدس/نوحہ در حال شہادت امام حسن علیہ السلام
جب زہر دیا ہے حسنِؑ سبز قبا کو اک درد اُٹھا دل میں امامِؑ دو سرا کو وہ درد کی شدّت کہ تڑپتے تھے دوا کو قے ہوتی تھی رہ رہ کے شہ عقدہ کشا کو احمؐد کے جگربند پہ یوں سم کا اثر تھا ٹکڑوں میں جگر بنٹ گیا حیدرؑ کے پسر کا وہ زہر کی تاثیر کہ پھٹتا تھا کلیجہ بڑھ جاتی تھی تکلیف جو کٹتا تھا کلیجہ شعلوں کی طرح سینے میں جلتا تھا کلیجہ تقسیم شدہ طشت میں گرتا تھا کلیجہ ہوتی تھی چبھن سینہ میں اک تیر کی صورت تھا زہرِ ہلاہل کسی شمشیر کی صورت صد پارہ ہوئے قلب و جگر سینہ میں جس دم آواز دی گھر والوں کو مسموم ہوئے ہم برپا کیا پھر زینبؐ و کلثومؐ نے ماتم عباسؑ و حسینؑ آئے قریبِ شہ عالم بہنوں سے کہا روؤ نہ اے زینب و کلثوم ہے مرضیِ معبود ہمیں ہونا ہے مسموم شبیرؑ سے بولے کہ برادر مرے پیارے اب میرا بھرا گھر ہے تمہارے ہی سہارے کچھ دیر میں اب ہم بھی زمانے سے سدھارے تھے آنکھوں سے مولاؑ کی رواں اشکوں کے دھارے تکلیف سے بے حال نظر آتے تھے مولاؑ بہنوں کی فغاں دیکھ کے غم کھاتے تھے مولاؑ پھر سینے سے قاسمؑ کو لگا کر کے کیا پیار لب چومے کبھی، چوما گلا اور...